وفاقی وزیر برائے اطلاعات و ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی اگلے سال کے آغاز میں مکمل کر لی جائے گی، جس سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے یہ بات منگل کے روز اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ اب یہ سفارشات وفاقی کابینہ کو پیش کی جائیں گی۔
’کابینہ کی منظوری کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) ایک انفارمیشن میمورنڈم جاری کرے گی، جس کی بنیاد پر ٹیلی کام سیکٹر اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت اور مذاکرات ہوں گے۔‘
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اسپیکٹرم کی نیلامی جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز تک مکمل کر لی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں انٹرنیٹ کا معیار نہ تو عالمی معیار کے مطابق ہے اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک کے برابر ہے۔
’ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسپیکٹرم کی شدید کمی ہے۔‘
وزیر آئی ٹی کے مطابق 24 کروڑ کی آبادی والا پاکستان صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر انحصار کر رہا ہے۔
’یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹریفک 8 لین کی متقاضی ہو لیکن ہم صرف 2 لین استعمال کر رہے ہوں، اسی وجہ سے انٹرنیٹ میں رکاوٹ، سست رفتاری اور دیگر مسائل پیش آتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ہونے والی نیلامیوں کے دوران صرف 60 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا گیا تھا، جبکہ اب حکومت 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام کرنے جا رہی ہے، جو ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی نیلامی ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس نیلامی میں کچھ ایسے اسپیکٹرم بینڈز بھی شامل ہوں گے جو پاکستان میں پہلی بار متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
’اس سے صارفین کو نہ صرف 3G اور 4G انٹرنیٹ میں بہتری ملے گی بلکہ 5G سروسز کے آغاز کی راہ بھی ہموار ہوگی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ نیلامی کے بعد 4 سے 6 ماہ کے اندر تمام سروسز کا عملی آغاز ہو جائے تاکہ صارفین کو واضح بہتری نظر آئے۔
’حکومت کی کوشش ہے کہ چھ ماہ کے اندر 5G سروسز کا آغاز کر دیا جائے‘
شزا فاطمہ خواجہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ حکومت کے ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کا بنیادی ستون ہے، جو ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کنیکٹ 2030‘ منصوبے کے تحت جس کا جلد وزیراعظم افتتاح کریں گے حکومت آئندہ 5 سال میں یہ یقینی بنائے گی کہ صارفین کو کم از کم 100 ایم بی پی ایس انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی فراہم کی جائے۔
واضح رہے کہ نومبر میں 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے مقرر کنسلٹنٹ نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی، تاہم پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق عدالتی معاملات کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔
امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (NERA) کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز — 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز — میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5G سروسز کے لیے سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں نیلامی کے طریقہ کار، بنیادی قیمت، مدت اور دیگر شرائط سے متعلق اہم پالیسی سفارشات بھی شامل ہیں۔














