مدینہ منورہ میں پرنس محمد بن سلمان عالمی مرکز برائے عربی خطاطی کا افتتاح

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ولی عہد اور وزیراعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں مدینہ ریجن کے امیر و چیئرمین ڈویلپمنٹ اتھارٹی شہزادہ سلمان بن سلطان نے پرنس محمد بن سلمان گلوبل سینٹر فار عربک خطاطی کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے شہر القطیف میں اسٹریٹ فوڈ فیسٹیول کا آغاز

افتتاحی تقریب میں وزیرِ ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان سمیت اعلیٰ حکام اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کے بعد شہزادہ سلمان بن سلطان نے مرکز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اس کی مختلف سہولیات اور فنّی نمائشوں کا جائزہ لیا اور مرکز کے ثقافتی مواد، کامیابیوں اور بین الاقوامی اعزازات سے متعلق بریفنگ لی۔

انہوں نے عربی خطاطی کی تاریخی، ثقافتی اور جمالیاتی اہمیت کو اجاگر کرنے والے فن پارے اور نادر مجموعے بھی دیکھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے کہا کہ مدینہ منورہ سے اس مرکز کا قیام عربی خطاطی کو ایک گہری جڑوں والی ثقافتی قدر کے طور پر عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

مزید پڑھیے: بہتر طرز زندگی کی تلاش، سعودی عرب منتقل ہونے کے رحجان میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ثقافتی شعبے کو دی جانے والی مسلسل اور بھرپور سرپرستی کا عکاس ہے۔

شہزادہ بدر کے مطابق یہ مرکز دنیا کو عربی خطاطی کی وسعت، خوبصورتی اور عرب و اسلامی ورثے میں اس کے نمایاں مقام کا واضح پیغام دیتا ہے اور مملکت کے ثقافتی تشخص کے تحفظ اور عالمی سطح پر فروغ کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مرکز عربی خطاطی کو ایک عالمگیر ذریعۂ اظہار کے طور پر فروغ دینے کے واضح وژن کی عکاسی کرتا ہے جو ورثے، فنون، تعمیرات اور ڈیزائن سے جڑا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کی تاریخی کامیابی، ورلڈ بینک انڈیکس میں دوسری پوزیشن

یہ مرکز سعودی عرب کے تاریخی کردار کو بھی مضبوط بناتا ہے جو اس فن کے تحفظ اور ترقی میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور ساتھ ہی تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور ثقافتی مکالمے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

تقریب میں شرکا نے ایک بصری پریزنٹیشن بھی دیکھی جس میں مرکز کے مشن کو اجاگر کیا گیا جس کا مقصد خطاطوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا، نئے ٹیلنٹ کی سرپرستی کرنا اور تخلیقی فنکاروں میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔

یہ مرکز سعودی ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر اس کی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے جو خطاطوں، ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ، بصری فنکاروں، اسلامی فنون کے محققین، تعلیمی و ثقافتی اداروں اور فنون و ورثے میں دلچسپی رکھنے والے مقامی و بین الاقوامی افراد کو خدمات فراہم کرے گا۔

مرکز کی حکمت عملی 5 بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن میں علم و ترقی، مہارتوں کی تربیت، کمیونٹی شمولیت، کاروبار و مواقع اور جدت شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت میں شدید بارشیں، طوفان اور برفباری

ان ستونوں کو خصوصی پروگراموں کے ذریعے تقویت دی گئی ہے جن میں تحقیقی و آرکائیونگ یونٹ، عربی خطاطی کے تعلیمی پروگرام، علمی تحقیقی وظائف، مستقل عربی خطاطی میوزیم، گھومتی ہوئی نمائشیں، انٹرنیشنل عربک خطاطی ایسوسی ایشن اور خطاطی پر مبنی بزنس انکیوبیٹر شامل ہیں۔

مرکز جدید نوعیت کے کئی اقدامات بھی نافذ کر رہا ہے جن میں آرٹسٹ ریزیڈنسی پروگرامز، خصوصی ورکشاپس، عربی خطاطی کے نصاب اور معیارات کی تیاری اور بین الاقوامی تعلیمی و تربیتی منصوبے شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ہمیں اس پر فخر ہے‘، سعودی عرب میں عربی زبان کے فروغ کے لیے تعلیمی، ثقافتی اور علمی سرگرمیوں کا انعقاد

ان اقدامات کا مقصد ثقافتی ورثے کا تحفظ اور عربی خطاطی کو ایک زندہ فن کے طور پر عالمی سطح پر فروغ دینا ہے جو روایت اور تخلیقیت کا حسین امتزاج ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟