برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں فلسطین ایکشن کے قیدیوں کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کے دوران سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو پولیس نے گرفتار کر لیا، جس پر انسانی حقوق اور سیاسی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گریٹا تھنبرگ کے اسرائیلی حراست سے یونان پہنچنے پر پرتپاک استقبال، اسرائیلی پر نسل کشی کا الزام لگا دیا
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گریٹا تھنبرگ کو منگل کے روز وسطی لندن میں ایک احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا۔ یہ احتجاج فلسطین ایکشن نامی تنظیم کے قید کارکنوں کے حق میں کیا جا رہا تھا، جو کئی ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ پولیس کے مطابق گریٹا تھنبرگ نے ایک ایسا پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس میں فلسطین ایکشن کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا۔

سٹی آف لندن پولیس کا کہنا ہے کہ 22 سالہ خاتون کو انسداد دہشتگردی ایکٹ 2000 کے تحت گرفتار کیا گیا، کیونکہ حکومت برطانیہ نے جولائی میں فلسطین ایکشن کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا، جس کے بعد اس کی حمایت جرم بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انسانی تاریخ کا سب سے بڑا مشن، گریٹا تھنبرگ غزہ کا اسرائیلی محاصرہ توڑنے نکل کھڑی ہوئیں
یہ احتجاج اسپن انشورنس کے دفتر کے باہر کیا گیا، جسے مظاہرین اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایل بٹ سسٹمز کی برطانیہ میں سرگرمیوں سے جوڑتے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی اسرائیلی فوج کو ہتھیار فراہم کرتی ہے، جو غزہ میں استعمال ہو رہے ہیں۔
احتجاج کا اہتمام پرزنرز فار فلسطین مہم نے کیا تھا۔ وکلا کے مطابق فلسطین ایکشن کے بعض قیدی 50 دن سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہو چکی ہے، جبکہ کئی افراد کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

گریٹا تھنبرگ نے گرفتاری سے چند روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ حکومتیں غزہ میں ہونے والے مظالم کو روکنے میں ناکام رہی ہیں اور عوام کو اسلحہ ساز کمپنیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہنا چاہیے۔ ان کی گرفتاری کو کارکنوں نے فلسطین کے حق میں سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی قرار دیا ہے۔













