پنجاب پروٹیکشن آف اونر شپ کے ذریعے اب تک کتنے کیسز نمٹائے گئے اور لاہور ہائیکورٹ نے یہ کیوں کہا کہ اگر یہ قانون رہ گیا تو جاتی عمرہ بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا؟
پنجاب حکومت نے یہ آرڈیننس 30 اکتوبر 2025 کو نافذ کیا، جو گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد جاری ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد برسوں سے التوا میں پڑے زمین اور جائیداد کے مقدمات کو 90 دن کے اندر نمٹانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وطن واپسی کے 2 سال، کیا نواز شریف کی سیاسی زندگی اب جاتی عمرہ تک محدود ہوگئی ہے؟
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے مطابق یہ قانون عوام کی منتخب صوبائی اسمبلی نے بنایا تاکہ طاقتور لینڈ مافیا سے عوام کو نجات ملے۔ قانون کے تحت شہادت پر مبنی طریقۂ کار اپنایا گیا اور پہلی بار عوام کو اپنی قانونی جائیداد کے تحفظ کی طاقت ملی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے نفاذ کے چند ہفتوں میں 5 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے ہوئے اور حق داروں کو انصاف ملا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ قانون سازی کرنا صوبائی اسمبلی کا آئینی حق ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا اس قانون کو روکنے کا نقصان مریم نواز شریف کی ذات کو نہیں بلکہ غریبوں، مسکینوں، بے کسوں، بیواؤں اور مظلوموں کو ہوگا جن کی داد رسی ہو رہی تھی۔ انصاف ملنے سے غریب اور مظلوم کی بندھ جانے والی آس ٹوٹ جائے گی۔
جاتی عمرہ بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا
22 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عابدہ پروین اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے آرڈیننس پر عمل درآمد روک دیا، تمام قبضوں کو واپس کرنے کا حکم دیا اور فل بنچ کی تشکیل کی سفارش کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بتائیے کہ یہ قانون رہ گیا تو جاتی عمرہ بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا۔

چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ چیف سیکریٹری صاحب لگتا ہے آپ نے یہ قانون نہیں پڑھا؟ لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ انہیں تمام اختیارات دے دیے جائیں۔ یہ قانون بنا کیوں ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ انہوں نے آرڈیننس کو عدالتی سپرمیسی اور سول حقوق کے خلاف قرار دیا۔
پنجاب اسمبلی میں آج کا ردعمل
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزرا نے آرڈیننس کی حمایت میں شدید ردعمل دیا۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت اب تک 5,044 کیسز کے فیصلے ہو چکے ہیں اور حق داروں کو ان کی جائیدادیں واپس مل چکی ہیں۔ اس وقت پورے پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں 1 لاکھ 69 ہزار کیسز میں سے 11 ہزار صرف پراپرٹی سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون جائیداد کے قانونی حق کا تحفظ کرتا ہے۔ غیر قانونی قبضہ ثابت ہونے پر 90 دن میں فیصلہ لازم ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق پراپرٹی کیسز میں سول کورٹ میں اوسطاً 20 سال، ہائی کورٹ میں 5 سال اور سپریم کورٹ میں 15 سال لگتے ہیں۔ ہم قبضہ مافیا کے ساتھ کیوں کھڑے ہوں؟
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ وزیراعلیٰ غریب، لاچار اور کمزور افراد کی زمینوں پر قبضے ختم کرنے کے لیے آرڈیننس لے کر آئیں۔ آرڈیننس کا مقصد غریبوں اور مزدوروں کی زمینیں قبضہ مافیا سے واگزار کرانا ہے۔
صوبائی وزیر لوکل گورنمنٹ ذیشان رفیق نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں کی قسمت میں اچھا کام کرنا نہیں، اس لیے وہ ہر مثبت اقدام کی مخالفت کرتے ہیں۔














