بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے آئندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے 7 اتحادی جماعتوں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ جماعتیں ماضی میں حکومت مخالف تحریک میں بی این پی کی شراکت دار رہی ہیں، جنہیں انتخابی مفاہمت کے تحت مختلف حلقے دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کا 18 سالہ خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے بدھ کی دوپہر پارٹی چیئرپرسن کے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران نشستوں کی تقسیم سے متعلق فیصلے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق بی این پی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان طویل مشاورت کے بعد آٹھ پارلیمانی حلقوں پر اتفاق رائے قائم کیا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت بوگرا-2 سے ناگورک اوئیکیا کے صدر محمود الرحمان منا، پیروج پور-1 سے جاتیہ پارٹی (قاضی ظفر دھڑا) کے مصطفیٰ جمال حیدر، نرائل-2 سے این پی پی کے چیئرمین فرید الزمان فرہاد، جیسور-5 سے اسلامی اوئیکیا جوتے کے مفتی رشید بن وقاص، پٹواکھالی-3 سے گنودھیکار پریشد کے صدر نورالحق نور، جھینائیدہ-4 سے گنودھیکار پریشد کے جنرل سیکریٹری راشد خان، ڈھاکا-12 سے ریولیوشنری ورکرز پارٹی کے جنرل سیکریٹری سیف الحق اور برہمن باریا-6 سے گانو سنگھتی اندولن کے چیف کوآرڈینیٹر زوناید ساکی امیدوار ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کی بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی، دہلی میں قونصلر اور ویزا سروس معطل
مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے بتایا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رہے گا اور اگر مزید اتفاق رائے ہوا تو اس کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوملہ-7 سے ریڈوان احمد اور ڈھاکا-13 سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین بوبی حجّاج کو بھی نشستیں دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ریڈوان احمد پہلے ہی بی این پی میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ بوبی حجّاج جلد شمولیت اختیار کریں گے۔

بی این پی سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ انتخابی مفاہمت کے تحت امیدوار اپنی اپنی جماعتوں کے انتخابی نشانات پر الیکشن لڑیں گے، جبکہ جو امیدوار بی این پی میں شامل ہوں گے وہ پارٹی کے انتخابی نشان ’دھان کے خوشے‘ پر حصہ لیں گے۔
پریس کانفرنس میں بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین نذر الاسلام خان، امیر خسرو محمود چوہدری اور اقبال حسن محمود ٹوکو بھی موجود تھے۔












