برطانوی علاقے جنوبی ویلز کے اوگمور بیچ پر وکٹورین دور کی سینکڑوں (ہوب نیلڈ) جوتے اچانک ساحل پر بہہ کر آگئے جس نے مقامی لوگوں اور ماہرین کو حیران کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
بی بی سی کے مطابق 19 ویں صدی کے لگنے والے یہ کالے چمڑے کے جوتے بیچ اکیڈمی کے رضاکاروں نے راک پولز صاف کرتے ہوئے دریافت کیے۔
بیچ اکیڈمی کی ایما لیمپورٹ نے بتایا کہ مقامی طور پر یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ جوتے شاید کسی اطالوی جہاز کے ڈوبنے کی وجہ سے یہاں پہنچے ہیں جو تقریباً 150 سال پہلے ٹاسکر راک سے ٹکرایا تھا۔
جوتیوں کی نوعیت اور دریافت
مصنفہ اور مڈلارکر (نوادرات تلاش کرنے والی( لارا مائیکلیم کے مطابق یہ جوتے بالکل وکٹورین دور کے ہیں اور شاید کسی جہاز کے ڈوبنے کی وجہ سے اس قدر بڑی تعداد میں سامنے آئے۔ اوگمور بیچ سے صرف اس ہفتے کے دوران رضاکاروں نے ایک چھوٹے علاقے میں 200 جوتے دریافت کیے۔
مزید پڑھیے: برطانوی کرنسی کی تاریخ کا اہم باب بند: ملکہ الزبتھ کی تصویر والا آخری سکہ جاری
ایما لیمپورٹ نے بتایا کہ وہ ستمبر سے راک پولز کی صفائی اور سمندری کچرے کو دور کرنے کے لیے ایک پروجیکٹ کر رہی تھیں لیکن انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اتنی وکٹورین جوتے ملیں گے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی جوتوں کی تصاویر شیئر کیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کہاں سے آئے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ اطالوی جہاز میں چمڑے کے جوتوں کا کارگو تھا جو ریور اوگمور میں بہہ کر وقت کے ساتھ زمین میں دب گیا اور اب اس کا مال سامنے آیا۔
جوتوں کے بارے میں ماہرین کی رائے
ایما لیمپورٹ کے مطابق بعض جوتے اچھی حالت میں ہیں اور یہ مردانہ بوٹ ہیں۔ کچھ بہت چھوٹے جوتے شاید بچوں کے ہیں لیکن لارامائیکلیم کے مطابق ان دنوں عورتوں کے پاؤں بھی چھوٹے ہوتے تھے لہذا یہ خواتین کے جوتے بھی ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹائم کیپسول: لیڈی ڈیانا کا اگلی نسلوں کے لیے دفن کردہ خزانہ وقت سے پہلے سامنے آگیا
بینگور یونیورسٹی میں سمندری سائنسز کے شعبے سے وابستہ اکیڈمک ڈاکٹر مائیکل رابرٹس نے کہا کہ وکٹورین دور کے جہاز وقت کے ساتھ گل سڑکر ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے یہ جوتے ساحل پر آ رہے ہیں۔
سماجی ردعمل
اوگمور کمیونٹی میں پہلے بھی سوشل میڈیا پر اسی طرح کے جوتوں کے ساحل پر آنے کی تصاویر شیئر کی جا چکی ہیں۔ ایک پوسٹ میں کسی نے لکھا تھا کہ انہوں نے بھی ‘چھوٹے چمڑے کے ہوب نیل بوٹس‘ دریافت کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: دنیائے فیشن کا اہم باب بند: جورجیو آرمانی نہیں رہے
یہ پراسرار واقعہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے حیرت انگیز ہے بلکہ تاریخ اور سمندری سفر کی یاد دہانی بھی ہے۔














