مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک افسوسناک واقعے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک اسرائیلی ریزرو فوجی کو سڑک کے کنارے نماز ادا کرنے والے فلسطینی شہری پر گاڑی چڑھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مسلح شخص کی جانب سے فلسطینی شہری کو کچلنے کی فوٹیج موصول ہوئی ہے۔
فوج کے مطابق ’مذکورہ شخص ریزرو فوجی تھا، جس کی فوجی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں اور اس کا اسلحہ بھی ضبط کر لیا گیا ہے، کیونکہ اس نے اختیارات کی سنگین خلاف ورزی کی۔‘
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رائفل پشت پر لٹکائے، سویلین لباس میں ملبوس اسرائیلی شخص ایک اے ٹی وی گاڑی نمازی فلسطینی پر چڑھا دیتا ہے، جس کے باعث وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ اس کے بعد حملہ آور چیختا چلاتا ہے اور اسے علاقہ چھوڑنے کے اشارے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا، ایک دن میں 88 فلسطینی شہید
متاثرہ فلسطینی کو واقعے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ شدید زخمی نہیں ہوا اور بعد میں گھر واپس آ گیا۔
فلسطینی شہری کے والد مجدي ابو موخو نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو اب بھی دونوں ٹانگوں میں درد ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملہ آور نے ان کے بیٹے پر مرچوں کا اسپرے کیا، اگرچہ یہ منظر ویڈیو میں نظر نہیں آتا۔
مجدي ابو موخو نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور ایک معروف آبادکار (سیٹلر) ہے، جس نے گاؤں کے قریب ایک غیرقانونی چوکی قائم کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق وہ دیگر آبادکاروں کے ساتھ آ کر مویشی چراتا، سڑک بند کرتا اور مقامی آبادی کو اشتعال دلاتا رہتا ہے۔
دوسری طرف ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مذکورہ شخص کو جمعرات کی رات گرفتار کیا گیا اور اسے 5 روزہ نظر بندی کی سزا دی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی شخص نے گاؤں کے اندر فائرنگ بھی کی تھی، جسے اسرائیلی فوج نے ’اختیارات کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے جرائم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی شہریوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملے انتہائی تشدد آمیز رہے، جن میں 750 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے۔
یو این کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 17 اکتوبر 2025 کے درمیان مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر شہادتیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور کچھ آبادکاروں کے تشدد کے نتیجے میں ہوئیں۔













