دوست ممالک قابل احترام لیکن برطانیہ کو بالکل درست اور بروقت ڈی مارش کیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

ہفتہ 27 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دوست ممالک ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، مگر تعلقات میں اصولوں کی پاسداری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر برطانیہ میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے مظاہرہ ہو اور وہاں کسی اہم شخصیت کو قتل کی دھمکیاں دی جائیں تو کیا ایسی صورتِ حال میں صرف دوستی کو ہی دیکھا جا سکتا ہے؟ اسی تناظر میں ہم نے برطانیہ کو بالکل درست اور بروقت ڈی مارش کیا ہے۔

اسلام آباد میں سالانہ بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ایک پیج پر ہیں، کیوں کہ جب تک اس لعنت سے چھٹکارہ نہیں پائیں گے کوئی سرمایہ کار نہیں آئےگا۔

مزید پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت خطے کو جنگ کے دہانے پر لے جا سکتی ہے، پاکستان آبی حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، اسحاق ڈار

انہوں نے کہاکہ 2018 میں ہم نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا، لیکن کچھ لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے ملک میں دہشتگردی دوبارہ شروع ہوگئی۔

انہوں نے کہاکہ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ملک کا ہم ایک جیسا احترام کرتے ہیں اور یہی ہماری خارجہ پالیسی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے نور خان ایئربیس پر حملہ ایک بڑی اور سنگین غلطی ثابت ہوا، جس کے نتائج 4 روزہ تنازع کے دوران پوری دنیا نے دیکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف بھارتی دعوؤں کو جھوٹا ثابت کیا بلکہ اس کا غرور بھی خاک میں ملا دیا۔

’22 اپریل کے بعد دفتر خارجہ غیر معمولی طور پر متحرک رہا‘

اسحاق ڈار نے کہاکہ 22 اپریل کے بعد دفتر خارجہ غیر معمولی طور پر متحرک رہا۔ بھارت نے ایف 16 طیارہ گرانے کا جھوٹا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا کہ وہ کسی بھی جارحیت میں پہل نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس طرح ماضی میں پلوامہ واقعے کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدامات کیے گئے تھے۔ نائب وزیراعظم کے مطابق بھارت نے 36 گھنٹوں کے دوران 80 ڈرون اور طیارے بھیجے، جن میں سے 79 کو پاکستانی فورسز نے مؤثر طور پر ناکارہ بنا دیا۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ طیارے گرائے جانے کے بعد بھارت مسلسل غلط بیانی کرتا رہا، جبکہ پاکستان نے کسی ملک سے ثالثی یا صلح صفائی کی درخواست نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ چار روزہ تنازع میں جنوبی ایشیا میں پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا عملی امتحان ہوا، جس میں پاکستان کامیاب رہا۔

’بھارتی میزائل اور ڈرون حملوں میں ایک ڈرون نے فوجی تنصیب کو معمولی نقصان پہنچایا‘

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ بھارتی میزائل اور ڈرون حملوں میں ایک ڈرون نے فوجی تنصیب کو معمولی نقصان پہنچایا اور ایک اہلکار زخمی ہوا، تاہم مجموعی طور پر دشمن کے عزائم ناکام بنائے گئے۔ 9 مئی کی رات وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

سفارتی محاذ پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہاکہ جب پی ڈی ایم نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، مگر حالیہ بحران کے دوران اور اس کے بعد 60 سے زیادہ عالمی رہنماؤں نے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق 2025 پاکستان کے لیے عزت و وقار کا سال ثابت ہوا اور عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے یو اے ای کے تعاون کو سراہتے ہوئے بتایا کہ ایک ارب ڈالر کی لایبیلیٹی کو سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور یو اے ای فوجی فاؤنڈیشن میں سرمایہ کاری کرے گا۔ جنوری میں 2 ارب ڈالر کے رول اوور پر بھی بات چیت ہوئی ہے تاکہ اسے براہ راست سرمایہ کاری میں بدلا جا سکے۔ یو اے ای کے صدر کے مجوزہ دورۂ پاکستان کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ آئی ایم ایف پروگرام میں سعودی عرب نے پاکستان کی حمایت کی جبکہ چین نے 4 ارب ڈالر پاکستان میں جمع کرائے۔ امریکا کے ساتھ تجارت کا حجم 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور پاکستان کا تجارتی سرپلس ہے۔ انسداد دہشتگردی کے شعبے میں بھی امریکا کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہوا اور اس سال بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوئی ہے اور یہ مسئلہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

’بنگلہ دیش کا دورہ مثبت رہا‘

نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش سے متعلق پیش رفت کو سال کی اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا حالیہ دورہ مثبت رہا، جہاں تمام سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے مطابق بنگلادیش میں فروری میں انتخابات کے بعد دوطرفہ روابط مزید مضبوط کیے جائیں گے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا ہے اور اب اصل ہدف پاکستان کو معاشی قوت بنانا ہے، جس کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہاکہ میں نے افغانستان کو قریب لانے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کیں، ان کے ساتھ سارے معاہدوں پر عملدرآمد کروایا، اور بدلے میں صرف یہ مانگا کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

’مجھے فوجی جوانوں کے جنازے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے‘

انہوں نے کہاکہ سارے معاملات یکطرفہ نہیں ہو سکتے، مجھے فوجی جوانوں کے جنازے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، افغانستان کے ایک ہزار علما نے فتویٰ دیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کتنا ہوتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے اقوام متحدہ کی جانب سے اپیل پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کنٹینروں کی ترسیل کی اجازت دی، ہر ہفتے ہم اپنے جوانوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں جو ناقابلِ برداشت ہے۔

انہوں نے کہاکہ مشرقی لیبیا کے بارے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی مفاد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، لیبیا کی دونوں حکومتیں کسی بھی وقت ایک ہو سکتی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ متحدہ عرب امارات کے صدر اس موسم میں شکار کے لیے آتے ہیں، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے پچھلی مرتبہ انہیں کہا تھا آپ جب بھی آئیں اسلام آباد ضرور آئیں، اس لیے وہ آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوکے والے معاملے پر برطانوی حکومت نے ہمیں برطانوی پراسیکیوٹر سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی عسکری ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے امیج کو بڑھانے میں سفارتی کردار بھی ادا کیا ہے۔

مزید پڑھیں: جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لیے حکومتی پالیسیوں کا مکمل نفاذ کیا جائے، اسحاق ڈار کی ہدایت

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے کردار کی تعریف کرتے ہیں اور وزیراعظم اہم دوروں پر انہیں ساتھ لے کر جاتے ہیں، ہم سب ایک ٹیم ہیں اور ایجنڈا پاکستان ہے۔

فلسطین میں امن فوج کا حصہ بننے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے واضح کیاکہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائیں گے، اس حوالے سے سول اور ملٹری قیادت کا مؤقف واضح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟