سال 2025 پاکستان کی سفارتکاری کے حوالے سے انتہائی اہم سال رہا، سال کے شروع میں ہی پاکستان نے علاقائی ممالک کو خاص طور دوطرفہ اور سہ فریقی مذاکرات کے حوالے سے انگیج کیا، سال 2025 میں 9 عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے دورے کیے جن میں سب سے پہلا دورہ 12 سے 13 فروری کو ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا تھا۔
اس کے بعد 3 اگست کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ 2 اکتوبر کو ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری ابراہیم پاکستان کے دورے پر آئے۔ اکتوبر ہی میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم پاکستان کے دورے پر آئے۔ 15 نومبر کو اُردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان کے دورے پر آئے اور 26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا دورہ کیا۔
مزید پڑھیں: ’اہلاً و سہلاً، مرحبا‘ یو اے ای کے صدر کے دورۂ پاکستان پر خصوصی استقبالی نغمہ جاری
سفارتکاری کے اہم مواقع کون کون سے تھے؟
اس سال دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے 19 اپریل کو افغانستان کا دورہ کیا جو افغان طالبان رجیم کے ساتھ حالات معمول پر لانے کی بڑی کوشش تھی، جس کے بعد پاکستان افغانستان اور چین سہ فریقی مذاکرات بیجنگ میں ہوئے اور اُس کے بعد سہ فریقی مذاکرات اگست میں کابل میں ہوئے۔
پاکستان کا خارجہ محاذ سب سے زیادہ اُس وقت گرم ہوا جب بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کا آغاز اس سال 6 مئی کو اور اُس سے پہلے 22 اپریل پہلگام واقعے سے ہوا۔ اس میں پاکستان کی بہت بڑی کامیابی یہ رہی کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارتی بیانیہ اپنانے سے انکار کر دیا۔ کئی بڑے مُلکوں نے پہلگام واقعے کی مذمت تو کی تو لیکن بھارت کی یہ خواہش کہ اُس کے ساتھ پاکستان کو جوڑا جائے، ادھوری رہ گئی، لیکن جنگ جیتنے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ساری دنیا میں مؤثر تسلیم کیا گیا۔
’اس سال رجب طیب اردوان نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا‘
سب سے پہلے پاکستان کا دورہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے 12 سے 13 فروری تک کیا۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے لیے اقدامات، باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ دفاعی تعاون کو بڑھانے، دفاعی پیداوار اور عسکری شراکت داری پر متعدد معاہدے کیے گئے۔ دورے کے دوران 24 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ساتھ ہی ساتھ علاقائی اور عالمی امور، بالخصوص فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ مؤقف بھی اپنا گیا۔
’متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم کا دورہ‘
20 سے 21 اپریل متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔
دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مسلم دنیا کے معاملات پر مشاورت کی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ سرمایہ کاری، افرادی قوت اور تجارتی تعاون پر بات چیت کی گئی۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا دورہ
2 سے 3 اگست کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر آئے۔ اس دورے کے دوران پاک ایران تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اس کے علاوہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔ دورے کے موقع پر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی اور عوامی و ثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا، یہ دورہ معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے اہم رہا۔
ایرانی صدر کی آمد سے قبل، ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے 5 مئی کو پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں خطے میں کشیدگی، سرحدی صورتحال اور سفارتی ہم آہنگی پر گفتگو کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی تعاون اور امن و امان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
25 سے 26 نومبر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور انتہائی اہم رہنما ڈاکٹر اردشیر علی لاریجانی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں دوطرفہ معاملات پر بات چیت کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ سال پاک ایران تعلقات کے حوالے سے اچھا ثابت ہوا۔
قازقستان کے نائب وزیراعظم کا دورہ پاکستان
8 سے 9 ستمبر قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ مورات نورتلیو نے پاکستان کا دورہ کیا، جس میں انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران وسطی ایشیا تک رسائی، تجارت اور توانائی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی روابط اور مستقبل کے اعلیٰ سطحی دوروں کی تیاری کے سلسلے میں بات چیت بھی ہوئی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم کا دورہ
2 سے 4 اکتوبر ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم پاکستان کے دورے پر تشریف لائے۔ جس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات کی۔
دورے کے دوران دونوں حکومتوں نے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں حلال صنعت، چھوٹے و درمیانے کاروبار، سیاحت اور سفارتی تربیت شامل ہیں، جبکہ سیاسی سطح پر علاقائی امن، استحکام اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
اس کے علاوہ اقتصادی پیش رفت کے طور پر ملائیشیا نے پاکستان سے زرعی مصنوعات اور حلال گوشت کی برآمدات بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، اس طرح یہ دورہ پاکستان ملائیشیا تعلقات کو مضبوط کرنے اور باہمی شراکت داری کو عملی شکل دینے کا اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ کا دورہ پاکستان
24 اکتوبر کو پولینڈ کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں پاکستان یورپی یونین تعلقات اور عالمی سفارتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ ساتھ ہی ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شاہ عبداللہ دوم
15 سے 16 نومبر اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پاکستان میں اُن کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ دورے کے دوران مشرقِ وسطیٰ، غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر ہم آہنگ مؤقف اپنایا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ دفاعی و سیکیورٹی پہلوسے باہمی تعاون اور استحکام پر بات چیت کی گئی۔ شاہ عبداللہ دوم کو نشانِ پاکستان سے بھی نوازا گیا۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو
8 سے 9 دسمبر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو پاکستان کے دورے پر آئے۔ اس دورے میں تجارت، صحت، تعلیم اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔
اس کے ساتھ ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر بھی اتفاقِ رائے ہوا اور یہ دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے 75 سالہ سفارتی تعلقات مکمل ہونے کی یاد کے حوالے سے اہم تھا۔
مزید پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف کی طیب اردوان کو دورہ پاکستان کی دعوت، ترک سرمایہ کاروں سے ملاقات
صدر متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زاید النہیان
26 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں سرمایہ کاری، توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی گئی، ساتھ ہی ساتھ دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات اور علاقائی استحکام پر بھی مشاورت ہوئی، یہ دورہ پاکستان کے لیے معاشی اعتماد کا بڑا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔














