کانپور کے وہ کاٹا اور لاہور کے بوکاٹا میں فرق

اتوار 28 دسمبر 2025
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بچپن سے طرح طرح کی آواز میں ’بو کاٹا‘ کے نعرۂ مستانہ سے کان آشنا ہو گئے تھے اور پھر عہد جوانی میں  فریحہ پرویز کا گانا کانوں میں رس گھولنے لگا جس نے ’بوکاٹا‘ کو نیا مفہوم دے کر عاشقوں کے دل کے تار چھیڑے:

پتنگ باز سجناں سے پتنگ باز بلماں سے

آنکھوں آنکھوں میں الجھی ڈور

لگا پیچا تو مچ گیا شور

کہ دل ہوا بو کاٹا ، کہ دل ہوا بو کاٹا

لیکن محبت میں احمد راہی کے بقول یوں بھی ہوتا ہے ’پیچے پے گئے نے بن ڈور’

خیر ہم نے آج اپنے تذکرے میں لاہوریوں کے ببانگ دہل ’بوکاٹا‘ کی پکار  کو مرکز ٹھہرا کر کچھ عرض کرنا  ہے اور کچھ ماضی کے جھروکوں میں تانک جھانک کرکے لاہوری بسنت کے نسوانی رنگوں پر بات کرنی ہے ۔ اس سب کے لیے ہمارا حوالہ نامور لکھاریوں کی نگارشات ہوں گی۔

 لاہور کے بارے میں کوئی اچھی کتابوں کے بارے میں پوچھے تو فوری طور پر جن کتابوں کا نام ذہن میں آتا ہے ان میں پران نول کی کتاب ‘لاہور، اے سینٹی مینٹل جرنی ‘ سرفہرست ہے۔ اس میں پتنگ بازی سے لاہور اور اپنا

تعلق بیان کرنے کے لیے انہوں نے ‘بو کاٹا’ کے عنوان سے پورا باب مختص کیا ہے۔

اس کے پہلے اور آخری جملے میں بوکاٹا ہے۔ ایک جگہ نشاط کے پیرائے میں تو دوسری جگہ حزنیہ صورت میں۔ بات کچھ یوں شروع ہوتی ہے:’ فضا بو کاٹا کی آوازوں سے بھری ہوئی تھی۔‘

اس کے بعد وہ بسنت سے لاہوریوں کی لگاوٹ اور اپنے جنون کا قصہ سناتے ہیں اور اسے ایک طرح دار نوجوان شیبا کی موت پر سمیٹتے ہیں جو پتنگ کی بازی مار لینے کے جوش  میں بے قابو ہو کر ’بوکاٹا بوکاٹا‘ کہتے ہوئے چھت سے گر کر زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔

پران نول کے بقول ’یہ اس کی زندگی کا آخری ’بو کاٹا‘ تھا۔‘

نسبت روڈ لاہور کے مکین پران نول سے بات کا رخ مستنصر حسین تارڑ کی طرف موڑتے ہیں جن کی بسنت سے جڑی یادیں چیمبرلین روڈ کے تین منزلہ مکان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پران نول سے ان کی نسبت پیدا ہوئی تو اسے لاہور سے  الفت نے  دوستی میں بدل دیا ۔

تارڑ صاحب کو ان کی کتاب اور شخصیت دونوں بہت بھائے۔ اس کا اندازہ ‘لاہور دیوانگی’ میں شامل ان کے مضمون ‘پران نول, جس کے ساتھ ایک لاہور مر گیا’ سے ہوتا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ‘لاہور آوارگی’ کا باب ‘اک دن رہیں بسنت میں’  پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں بوکاٹا کے نسوانی رنگ وہ بڑی خوب صورتی سے اجاگر کرتے ہیں:

’اور ہاں بسنت کی اس رت میں لاہور شہر کے چوبارے اور کوٹھے دھانی رنگوں سے شوخ ہوتے دمک رہے ہوتے۔ لڑکیاں، بالیاں، ناریاں، شہر کی سوہنیاں اور سجاوٹیں، بسنتی چولے پہنے، زرد رنگ کے پہناوے زیب تن کیے چین کی زرد شہزادیاں کوٹھوں پر جلوہ گر ہوتیں،  بوکاٹا کے نعرے لگا رہی ہوتیں۔ وہ بسنت بہار میں ایک زرد بہار کی صورت نمایاں ہوتیں۔ برابر کی شریک ہوتیں اور ایسا کبھی نہ ہوا کہ ان پر کسی نے آوازے کسے ہوں یا ان کو زچ کیا ہو۔‘

چیمبر لین روڈ کی ایک اور نامور  مکین اجیت کور ہیں  جن کی یادوں میں نسبت روڈ بھی بستا ہے ۔ یہ دونوں علاقے ایک دوسرے سے اس قدر منسلک ہیں کہ مکیں اِدھر کے بھی جلوے اُدھر کے دیکھ سکتے ہیں ۔

انٹرنیٹ پر پارٹیشن میوزیم کی ویب سائٹ پر لاہور کی بسنت کے بارے میں پنجابی کی معروف لکھاری اجیت کور کی خوب صورت گفتگو سنی  جا سکتی ہے، جس میں بسنت سے خواتین کی وابستگی اور ’بو کاٹا‘ دونوں کا تذکرہ ہے۔

اجیت کور کے مطابق بسنت شہر کا اہم تہوار تھا اور اس کی پیشگی تیاریوں کا تعلق پتنگوں اور گڈیوں کے ساتھ ساتھ پیلے رنگ کے صافے اور چنیوں سے بھی ہوتا تھا۔ اجیت کور کی گوٹے دار پیلی چنی کی تیاری بسنت سے 15 دن پہلے شروع ہو جاتی تھی، بسنت پنچمی کے دن چھتوں پر ہر طرف پیلے دوپٹے اور پگیں دکھائی دیتی تھیں، پیلے چاول بنائے جاتے تھے۔

اجیت کور نے مزید بتایا کہ آسمان گڈیوں اور پتنگوں سے بھر جاتا اورصبح سے ‘بو کاٹا بوکاٹا‘ کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی تھیں۔

یہ اندرون لاہور سے قریب بیرون لاہور کے علاقوں میں ‘بو کاٹا’ اور خواتین کی بسنت سے دل چسپی کا احوال تھا۔

اب ہم اندرونِ شہر چلتے ہیں اور اس کے روڑے یونس ادیب کی کتاب ‘میرا شہر لاہور’ کے باب ‘بسنت بہار’ کو دیکھتے ہیں جس میں وہ  ہندو، سکھ اور مسلمان لڑکیوں کی پتنگ بازی میں دل چسپی اور ‘بوکاٹا’ کا آوازہ بلند ہونے کا بتاتے ہیں۔ خصوصیت سے ایک لڑکی زبیدہ کا تذکرہ کرتے ہیں جو  بسنت کی دیوانی تھی۔ محلے میں اسے ماہی منڈا کہا جاتا تھا۔

یونس ادیب کے بقول ’ابھی پو بھی نہیں پھٹتی تھی اور سرد اندھیرا چھایا ہوتا تھا تو کوٹھوں، چھتوں اور منڈیروں سے بو بو کی آوازیں آنے لگتی تھیں اور گڈیاں اڑنے لگتی تھیں۔‘

پران نول، مستنصر حسین تارڑ، اجیت کور اور یونس ادیب ٹھیٹ لاہوریے ٹھہرے، اس لیے بسنت، پتنگ بازی اور بوکاٹا سے معمور فضاؤں کا بیان، ان کے لیے  اپنے وجود کے ایک حصے کا بیان ہے لیکن غیرلاہوری ادیب مشتاق احمد یوسفی کی حکایت بھی  لذیذ تر ہے ۔

ان  کی تصنیف ‘آب گُم’ میں ایک کردار پتنگ بازی کا رسیا ہے۔ پیچے وہ کانپور میں لڑاتا ہے اور قصے لاہوری بسنت کے ورد زبان ہوتے ہیں۔ پتنگ کٹنے پر اسے لاہور کا مانجھا یاد آتا ہے۔  لاہور کے ’بو کاٹا‘ کی گھن گرج کو اس نے جس طرح واضح کیا ہے وہ بے مثال ہے۔ اسے مشتاق احمد یوسفی کے لفظوں میں پیش کیا جاتا ہے:

‘میاں صاحب اکثر فرماتے کہ پتنگ اور کنکوے بنانے میں تو بے شک لکھنؤ والوں کا جواب نہیں لیکن بادشاہو! ہوا لاہور ہی کی بہتر ہے۔ سچ پوچھو تو پتنگ لاہور ہی کی ہوا میں پیٹا چھوڑے (جھول کھائے) بغیر ڈور پہ  ڈور پیتی اور زور کھاتی ہے۔ پتنگ کے رنگ اور مانجھے کے جوہر تو لاہور ہی کے آسمان میں کھلتے اور نکھرتے ہیں۔ کانپور میں ’وہ کاٹا‘ اس طرح کہتے ہیں جیسے معذرت بلکہ تعزیت کر رہے ہوں۔ لاہور کے ‘بوکاٹا’  میں پچھڑے ہوئے پہلوان کی چھاتی پر چڑھے ہوئے پہلوان کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ بلکہ پسینے میں شرابور جسم سے چمٹی ہوئی اکھاڑے کی مٹی تک نظر آتی ہے۔‘

اس کے بعد یوسفی صاحب  لاہور کی بسنت کا احوال رقم  کرتے ہیں اور اس اعلان کے بعد کہ:

‘ہاں ! لاہور میں آج بسنت ہے’

وہ فضا کی رنگا رنگی بیان کرنے کے لیے  میر تقی میر کے اس مصرعے کا  سہارا لیتے ہیں:

رنگ ہوا سے یوں ٹپکے ہے جیسے شراب چواتے ہیں

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

9 مئی میں ملوث افراد کو سزا ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو، فیصل کریم کنڈی

بنگلہ دیش کے قومی سلامتی کے مشیر کی واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں، دوطرفہ اقتصادی تعان پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئندہ 15 روز کے لیے برقرار

بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ آج رات 12 بجے کے بعد ممنوع

ویڈیو

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

مردان کے ریڈ بلڈ بیڑوچ مالٹے کی خاص بات کیا ہے؟

وی ایکسکلوسیو: نہ کوئی ونڈر بوائے آرہا ہے نہ ٹیکنوکریٹس اس ملک کے مسائل حل کرسکتے ہیں: مصدق ملک

کالم / تجزیہ

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘

ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن