چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل انتہا پسندی نہیں بلکہ مفاہمت اور سیاسی استحکام میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ طرزِ سیاست ترک کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چاہیے، کیونکہ حقیقی ترقی اور استحکام اسی راستے سے ممکن ہے۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر زور
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے معاشی بحران اور مالی گنجائش کے مسائل حل کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسہ: 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاسی دائرے میں نہیں آتا، بلاول بھٹو
ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت معاشی بحران کو مؤثر انداز میں ایڈریس کرنا چاہتی ہے، خصوصاً فسکل اسپیس کے مسئلے کو، تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سندھ حکومت کے ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کا یہ ماڈل نہ صرف مؤثر ثابت ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے پذیرائی ملی ہے۔
عالمی سطح پر اعتراف
چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو معروف عالمی جریدے اکانومسٹ میگزین نے خطے میں چھٹا نمبر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ماڈل وفاقی سطح اور دیگر صوبوں میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم سے اظہارِ تشکر
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 18ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش آ کر وقت دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ملاقات صرف برسی کے حوالے سے تھی، اس میں نہ کوئی سیاسی گفتگو ہوئی اور نہ کسی اور معاملے پر بات کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:آصف زرداری نے ساڑھے 13 برس سیاسی قید میں گزارے جو منفرد مقام ہے، بلاول بھٹو
لمبی اننگز کا فیصلہ عوام کے ہاتھ میں
لمبی اننگز سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔ عوام ہی طے کریں گے کہ کون لمبی اننگز کھیلے گا اور کون سے سیاسی کومبینیشنز بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہییں۔
سیاسی استحکام ہی مسائل کا حل
انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی قوتیں مل کر ایسا ماحول بنائیں جس سے سیاست کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو، تو یہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔ ان کے مطابق معاشی مشکلات اور قومی سلامتی جیسے بڑے مسائل کا طویل المدتی حل کسی ایک جماعت کی لمبی اننگز نہیں بلکہ حقیقی اور پائیدار سیاسی استحکام ہے۔
بینظیر بھٹو کا پیغام اور مفاہمت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی پر انہی کے نظریے اور منشور کے مطابق بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق محترمہ بینظیر بھٹو کا سیاسی پیغام مفاہمت پر مبنی تھا اور آج بھی پاکستان کو اسی سوچ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا لاہور آنے کا مقصد کیا تھا؟
انتہا پسندی پر تنقید
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر سیاست انتہا پسندی کی جائے گی تو اس کے ردعمل میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی گرفتاری یا قانونی کارروائی کے ردعمل میں قومی اداروں پر حملے درست نہیں۔
پی ٹی آئی کو واضح پیغام
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تجربے اور تاریخ کی روشنی میں ان کی واضح تجویز یہی ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے اور اپنی سیاست کو جمہوری دائرے میں واپس لے آئے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ پی ٹی آئی، اس کے کارکنوں اور ملک کی مجموعی جمہوری سیاست کے لیے بہتر ہوگا اور اس کے مثبت اثرات پورے پاکستان پر پڑیں گے۔














