سائنسدانوں کے درمیان اس وقت ایک بڑی بحث جاری ہے، جب حالیہ شواہد سے یہ اشارہ ملا ہے کہ ڈارک انرجی یعنی وہ پراسرار قوت جو کائنات کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے، وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو وقت اور خلا سے متعلق ہماری موجودہ سائنسی سمجھ بوجھ کو شدید چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات طویل عرصے سے یہ سمجھتے رہے ہیں کہ بگ بینگ کے بعد شروع ہونے والا کائنات کا پھیلاؤ، ڈارک انرجی کی وجہ سے ہمیشہ جاری رہے گا۔ 1998 میں سپرنووا ستاروں کے مشاہدات سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کی رفتار میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، جس سے ‘بگ رِپ’ جیسے نظریات سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیے: کائنات کے راز کھولنے والا انقلابی آلہ ’فروسٹی‘ تیار کرلیا گیا
تاہم مارچ میں امریکا کی ریاست ایریزونا میں نصب ڈارک انرجی اسپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے اس تصور کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس ڈیٹا سے اشارہ ملا کہ کہکشاؤں کی رفتارِ پھیلاؤ وقت کے ساتھ بدل رہی ہے، جو روایتی کونیاتی ماڈلز کے خلاف ہے۔
نومبر میں جنوبی کوریا کی یونسی یونیورسٹی کے پروفیسر ینگ ووک لی کی سربراہی میں ایک تحقیق شائع ہوئی، جس میں سپرنووا ڈیٹا کا نئے انداز سے تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار سست ہو رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ڈارک انرجی کمزور پڑ رہی ہے۔
اگر ایسا ہوا تو کششِ ثقل دوبارہ غالب آ سکتی ہے اور کہکشائیں ایک دوسرے کی جانب کھنچنے لگیں گی، جس کے نتیجے میں کائنات کا اختتام ‘بگ کرنچ’ پر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کائناتی طوفان کی تصویر حیرت انگیز صف بندی کا نتیجہ ہے، ناسا
اگرچہ کئی ماہرین ان نتائج پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن اب تک ان دعوؤں کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکا۔ اس موضوع پر سینکڑوں تحقیقی مقالے شائع ہو چکے ہیں اور ماہرین منقسم ہیں، تاہم اس بحث کو کائنات کے آغاز اور انجام کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔














