کائنات کے راز کھولنے والا انقلابی آلہ ’فروسٹی‘ تیار کرلیا گیا

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محققین نے ایک نیا اپٹکس آلہ ’فرنٹ سرفیس ٹائپ ایریڈر‘ (فروسٹی) تیار کیا ہے جو لیگو جیسے کشش ثقل ڈیٹیکٹر میں انقلاب لا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا مشن کامیاب، ناسا اور ناوا کے اسپیس ویذر سیٹلائٹس خلا میں روانہ

لیگو وہ دوربین ہے جو کالے سوراخ کے ٹکرانے اور دیگر کائناتی حرکات سے پیدا ہونے والی کشش ثقل کی لہروں کو ناپتی ہے۔

فروسٹی کے ذریعے لیگو کے بڑے شیشوں کی سطح کو انتہائی طاقتور لیزر کی مدد سے بہتر بنایا جائے گا جس سے پیمائش کی درستگی میں زبردست اضافہ ہوگا۔

مذکورہ تحقیق کی قیادت کرنے والے جوناتھن رچرڈسن کہتے ہیں کہ یہ آلہ شیشوں کی شکل کو اتنی درستگی سے بدل سکتا ہے کہ کشش ثقل کی لہروں کی پیمائش میں کوئی خلل نہ آئے۔

مزید پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

فروسٹی کی مدد سے سائنسدان لاکھوں کالے سوراخ اور نیوٹران اسٹارز کے ٹکراؤ دریافت کر سکیں گے اور کائنات کے نئے اسرار جاننے میں کامیاب ہوں گے۔

مزید پڑھیں: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟

یہ آلہ مستقبل میں LIGO A# اپگریڈ اور اگلی نسل کے مشاہداتی آلات کاسمک ایکسپلورر  کا حصہ بنے گا جو کائنات کو پہلے سے زیادہ قریب سے دیکھنے میں مدد کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کے خلاف ٹی 20 میں بابر اعظم کا ریکارڈ کیا ہے؟ اہم ٹاکرے سے قبل اعداد و شمار سامنے آگئے

وزیراعظم پاکستان کا طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد، دورہ پاکستان کی دعوت

ایران امریکا مذاکرات کی تاریخ اب تک مقرر کیوں نہیں ہوسکی؟

یو اے ای نے پاکستان کا 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا

برطانیہ کی ’فلسطین ایکشن گروپ‘ پر پابندی غیر قانونی قرار

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ