پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سال کے آخری ہفتے کا آغاز شاندار انداز میں کیا، جہاں پیر کے روز کاروبار کے ابتدائی اوقات میں 100 انڈیکس 174 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
دن کے دوران مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس انٹرا ڈے بلند ترین سطح 174,411.72 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
صبح ساڑھے 11 بجے کے قریب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,269.13 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 173,669.86 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 0.74 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
Market is up at midday 🚀
⏳ KSE 100 is positive by +1365.32 points (+0.79%) at midday trading. Index is at 173,766.05 and volume so far is 184.5 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/eUby4hG7zD— Investify Pakistan (@investifypk) December 29, 2025
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنریز کے شعبوں میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا۔
اٹک ریفائنری، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، حبیب بینک، میزان بینک اور مسلم کمرشل بینک سمیت اہم شیئرز رکھنے والی کمپنیاں سبز زون میں ٹریڈ کرتی رہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار، انڈیکس میں 1,100 پوائنٹس کا اضافہ
اسٹاک ماہرین کے مطابق، بہتر ہوتی معاشی صورتحال، مہنگائی میں کمی اور مضبوط ملکی لیکویڈیٹی کے باعث 2026 میں بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج بہترین کارکردگی دکھانے والا اثاثہ رہنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق، جنوری 2025 سے اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے امریکی ڈالر میں 50 فیصد سے زائد منافع دیا، جس سے یہ ایشیا کی بہترین مارکیٹس میں شامل ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو گزشتہ 18 ماہ میں 37 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے تاریخی اختتام کیا تھا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 0.6 فیصد ہفتہ وار اضافے کے ساتھ 172,400.73 پوائنٹس پر بند ہوا اور سال کے اختتامی مرحلے میں تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد اضافہ
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی پیر کے روز 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکی ڈالر تقریباً 3 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔
یہ صورتحال امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ سال شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کے باعث پیدا ہوئی، جس سے قیمتی دھاتوں میں بھی زبردست تیزی دیکھی گئی۔
دوسری جانب جغرافیائی سیاست بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی رہی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق پیش رفت کا عندیہ دیا۔

ایشیا پیسفک خطے میں ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.27 فیصد اضافے کے ساتھ اکتوبر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.5 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 2 ماہ کی بلند ترین سطح پر آ گیا۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد کمی کا شکار رہا، جبکہ تائیوان کی مارکیٹ ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوئی۔














