سپریم کورٹ نے توہینِ مذہب کے ملزم کی میت دفنانے کے دوران ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں نامزد مولوی احمد کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی ہے۔
یہ درخواست ملزم کی جانب سے واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی گئی۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے استقبالیہ پر دل کا دورہ، راولپنڈی کے رہائشی عابد حسین چل بسا
دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ اس مقدمے کی سماعت 3 ماہ کے اندر مکمل کرے۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ توہینِ مذہب کے ملزم کی میت دفنانے کے موقع پر جھگڑا ہوا، تاہم ان کے موکل مولوی احمد اس وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔
وکیل کے مطابق مولوی احمد کا واقعے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے متنازع ٹوئیٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا ٹرائل روک دیا
اس کے برعکس سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم مولوی احمد نے موقع پر لوگوں سے خطاب کیا جس کے نتیجے میں اشتعال پھیلا اور حالات کشیدہ ہوئے۔
سرکاری وکیل کے مطابق مقدمے میں اب تک 4 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ مولوی احمد کے خلاف سندھ کے علاقے تھانہ عمر کوٹ میں اشتعال دلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔














