پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اس سال جیب تراشی کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، لاہوریوں اور لاہور شہر میں آئے لوگوں کی جیبیں، جیب تراشوں نے منٹوں میں صاف کردیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور شہر کی مختلف پولیس ڈویژنوں میں ہزاروں کی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے ان میں سے کئی جیب تراشوں کو گرفتار بھی کیا گیا سیکیورٹی کیمروں کی موجودگی میں بھی جیب تراشوں میں کمی واقع نہیں ہوسکی۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور میں 20 ہزار سے زائد افراد کی جیبیں، جیب تراشوں نے اپنی مہارت سے صاف کردیں۔ جیب تراشی کی وارداتوں میں سٹی ڈویژن سرفہرست رہا، جہاں 4,570 مقدمات درج کیے گئے۔ یہ ڈویژن شہر کے مرکزی علاقوں کو کور کرتا ہے، جہاں بازاروں، ٹرانسپورٹ ٹرمینلز اور عوامی مقامات پر ہجوم کی وجہ سے چوروں کو آسانی سے موقع مل جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سیشن ججز کے اختیارات کا معاملہ، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل کر دیا
ماڈل ٹاؤن ڈویژن دوسرے نمبر پر رہا، جہاں 4,490 وارداتوں کی رپورٹس سامنے آئیں۔ یہ علاقہ رہائشی اور کمرشل زونز کا امتزاج ہے، جہاں روزمرہ کی سرگرمیوں کے دوران شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔
صدر ڈویژن تیسرے نمبر پر ہے، جہاں 3,672 مقدمات درج ہوئے۔ یہ ڈویژن شہر کے جنوبی حصوں کو شامل کرتا ہے، جہاں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں زیادہ ہیں اور عوامی نقل و حمل کے ذرائع میں چوری کی وارداتوں کا تناسب بلند رہا۔
اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 2,790 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں، جو شہریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پولیس کی نگرانی کی کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔
سول لائنز ڈویژن، جو شہر کے اہم انتظامی اور تاریخی علاقوں پر مشتمل ہے، میں جیب تراشی کے 2,392 مقدمات درج ہوئے۔ یہاں سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے ہجوم زیادہ ہوتا ہے، جو چوروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور کے جیلانی پارک میں گلِ داؤدی کی رنگا رنگ بہار
آخر میں، کینٹ ڈویژن جہاں پر ہر وقت سخت سیکیورٹی ہوتی ہے وہاں پر بھی جیب کتروں نے شہریوں کو نہیں چھوڑا ،رواں سال کے دوران 2,176 وارداتوں کی رپورٹس موصول ہوئیں۔
یہ تمام اعداد و شمار ملا کر کل 20,090 وارداتوں پر مشتمل ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وارداتوں کا اضافہ شہری آبادی میں اضافے، معاشی دباؤ اور عوامی مقامات پر رش کی وجہ سے ہوئی ہے۔ تاہم، شہریوں کا شکوہ ہے کہ پولیس کی جانب سے مقدمات درج کرنے کے باوجود ملزمان کی گرفتاری اور سزاؤں کا تناسب کم ہے، جو جرائم کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس سال متعدد آپریشنز کیے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب میں اضافہ کیا ہے، بہت سے جیب کتروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ،کچھ شہریوں کو ان کی رقوم واپس بھی ملی ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور میں ’سہولت آن دی گو بازار‘ عوام اور ریڑھی بانوں کے لیے خوشخبری
پولیس ذرائع کا کہنا ہے شہریوں کو بھی احتیاط برتنی چاہیے اور اپنے سامان کی حفاظت کرنی چائیے بازاروں اور بسوں میں ہجوم کے دوران قیمتی اشیا کی حفاظت ضروری ہے۔ دوسری جانب، شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس ڈویژنوں میں پیٹرولنگ بڑھائی جائے اور جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ آئندہ مہینوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے اور ان وراتوں میں کمی لائی جائے گئی۔













