پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے والے کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے واضح کیا ہے کہ پی آئی اے اپنی برسوں پرانی شناخت برقراررکھتے ہوئے اصل نام کے ساتھ ہی کام جاری رکھے گی۔
انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ نجکاری کی شرائط کے مطابق ایئرلائن کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تاہم سروسز اور مجموعی معیار میں بہتری لانا نئی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے میں بہت زیادہ پوٹینشل، 100 فیصد شیئرز خریدنا چاہتے تھے: عارف حبیب
عارف حبیب نے بتایا کہ پی آئی اے کی موجودہ برانڈ شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم اگر تکنیکی مشاورت اور بہتری کی گنجائش موجود ہوئی تو یونیفارمز، پیشکش کا انداز اور مجموعی شکل و صورت میں مثبت تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں تاکہ ایئرلائن زیادہ جدید اور بہتر نظر آئے۔
Arif Habib Group’s first meeting with PIA management delayed; moved to 2:30 AM Thursday
Read: https://t.co/04ftulRd89 pic.twitter.com/KG7qwo0pU1
— Profit (@Profitpk) December 29, 2025
انہوں نے کہا کہ ٹیک اوور کے بعد مسافروں کو واضح فرق محسوس ہو گا، چیک اِن کاؤنٹرز، کیبن، نشستوں اور طیاروں میں موجود انٹرٹینمنٹ سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ مسافروں کے ساتھ رویہ اور سروس کا معیار عالمی معیار کے مطابق ہو۔
طیاروں کے بیڑے سے متعلق بات کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ آئندہ 3 سے 4 سال کے دوران پی آئی اے کے بیڑے میں تقریباً 19 نئے طیارے شامل کیے جائیں گے، جبکہ اس مدت کے بعد مزید توسیع کے ذریعے مجموعی تعداد کو 64 طیاروں تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 25 نئے طیارے شامل کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، وزیراعظم شہباز شریف
ان کے مطابق بیڑے میں نیرو باڈی اور وائڈ باڈی دونوں اقسام کے طیارے شامل ہوں گے، جن میں ایئر بس اے 320 اور بوئنگ 777 جیسے طیارے بھی شامل ہیں۔ قلیل فاصلے اور علاقائی روٹس کے لیے زیادہ تر نیرو باڈی طیارے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ یورپ، کینیڈا اور امریکا جیسے طویل فاصلے کے بین الاقوامی روٹس کے لیے وائڈ باڈی طیارے ناگزیر ہوں گے۔
عارف حبیب کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پی آئی اے کو ایک بار پھر مستحکم، قابلِ اعتماد اور مسافروں کی پسندیدہ ایئرلائن بنانا ہے تاکہ عوام کا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے۔














