پاکستان کے معروف یوٹیوبر رجب بٹ کے ساتھ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ان کی بہن غزل جواد بھی سامنے آ گئیں۔
غزل جواد نے کہا کہ ایک وکیل کس طرح عدالت میں کسی آدمی پر حملہ کر سکتا ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وکیل ہونا اس تشدد کو جائز بناتا ہے؟ کیا یہی ہمارا قانون بن گیا ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ اس دن ہمارا قانون کہاں تھا؟
انہوں نے رجب بٹ کے لیے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انصاف مانگنا انتشار نہیں ہے۔ حملہ آوروں کی جوابدہی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جوابدہی قانون اور آئین کی طاقت کے ذریعے ہو۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاکی بڑی تعداد نے یوٹیوبر رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کےبعد رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کی جانب سے یوٹوبر رجب بٹ پر حملے میں ملوث وکلاء کا لائسنس معطل کرنے کی درخواست جمع کرائی ہے۔
درخواست کے مطابق تشدد کے نتیجے میں رجب بٹ کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں جن کے طبی شواہد اور تصاویر بھی محفوظ کی گئی ہیں۔ حملہ آوروں نے موکل کا بیگ بھی زبردستی چھین لیا جو بعد ازاں واپس کر دیا گیا لیکن بیگ سے 3 لاکھ روپے غائب تھے جو عدالت کے احاطے میں کھلی چوری کے مترادف ہے۔














