سندھ کابینہ نے ملیر، چنیسر اور لیاری کے میونسپل اسکولوں کے انتظامات ٹی سی ایف (دی سٹیزن فاؤنڈیشن) کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی۔
سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز و افسران نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سندھ کابینہ نے متعدد ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی منظوری دے دی
ترجمان کے مطابق ای سی سی کے فیصلے کے تحت 21 میونسپل اسکولوں میں مفت معیاری تعلیم، یونیفارم اور تعلیمی سامان فراہم کیا جائے گا، جبکہ اسکولوں کی تعمیر، مرمت اور انتظامی امور کی ذمہ داری ٹی سی ایف کو دی جائے گی۔
کابینہ نے فیصلہ کیاکہ میونسپل کارپوریشنز اسکولوں کی زمین اور عمارتیں مفت فراہم کریں گی، اور معاہدہ ابتدائی طور پر 25 سال کے لیے طے پایا ہے، جسے بعد میں باہمی رضامندی سے توسیع دی جا سکتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اسکولوں کی فوری تعمیر و بحالی اور فعال کاری ممکن ہو سکے گی۔ یہ منظوری محکمہ بلدیات سندھ کی سفارش پر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے سندھ لینڈ مینجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو بند کرنے کی بھی منظوری دی۔
ترجمان کے مطابق یہ کمپنی 2010 میں بورڈ آف ریونیو کے تحت قائم کی گئی تھی اور زمین کی ترقیاتی منصوبہ بندی، شہری، رہائشی، تجارتی اور صنعتی پلاٹس کی منصوبہ بندی کے کام کرتی تھی۔
ذوالفقارآباد اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بعد کمپنی کی سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں، اور اب کابینہ نے باضابطہ طور پر اسے بند کرنے کی منظوری دی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے نفاذ کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کی جائے گی، اور یہ انشورنس نئے سال سے نافذ العمل ہوگی۔ ساتھ ہی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پر سیلز ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ سے سیلاب زدگان کی امداد کی اپیل کرنی چاہیے، وزیر اعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ بیشتر ٹریفک حادثات میں متاثرہ افراد کو معاوضہ نہیں مل پاتا، اور حکومت ایسے اقدامات کرے گی جو متاثرین کو ان کے قانونی حقوق فراہم کریں۔ انشورنس کلیمز کے سلسلے میں 24 گھنٹے ہیلپ لائن قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
کابینہ نے موٹر وہیکل ایکٹ کی شق 19 اور 20 میں ترمیم کی منظوری دی اور اس بل کو سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔












