بیگم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ کل، اسپیکر ایاز صادق پاکستان کی نمائندگی کریں گے

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ڈھاکہ جائیں گے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سردار ایاز صادق بیگم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کرگئی ہیں، جن کی نماز جنازہ کل بروز بدھ نماز ظہر کے بعد ادا کی جائےگی۔

بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیش نہ صرف بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ان خواتین رہنماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے سیاست میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔

خالدہ ضیا کی ابتدائی زندگی سیاست سے دور تھی اور وہ ایک سادہ، گھریلو خاتون کے طور پر جانی جاتی تھیں، جن کی زندگی کا محور ان کا خاندان تھا۔

تاہم 1981 میں ان کے شوہر، سابق صدر اور فوجی سربراہ ضیاالرحمان کے قتل نے ان کی زندگی بدل دی اور وہ عملی سیاست میں آئیں، اور چند برسوں میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت سنبھال لی۔

پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہی خالدہ ضیا نے غربت کے خاتمے، اقتصادی بہتری اور جمہوری اقدار کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ 1990 میں انہوں نے شیخ حسینہ کے ساتھ مل کر فوجی آمر حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔ ابتدا میں دونوں رہنماؤں کا مقصد مشترک تھا، مگر اقتدار کی سیاست نے جلد ہی انہیں ایک دوسرے کا سخت سیاسی حریف بنا دیا۔

1991 کے عام انتخابات میں خالدہ ضیا غیر متوقع کامیابی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سنبھالیں اور بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ پہلے دور حکومت میں انہوں نے صدارتی نظام کا خاتمہ کر کے پارلیمانی نظام نافذ کیا، پرائمری تعلیم کو مفت اور لازمی بنایا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو فروغ دیا۔

اگرچہ 1996 میں وہ اقتدار سے باہر ہو گئیں، لیکن سیاست میں فعال رہیں اور 2001 میں دوبارہ کامیابی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ ان کا دوسرا دور حکومت تنازعات سے بھرپور رہا، جس میں شدت پسندی، بدعنوانی کے الزامات اور سیاسی عدم استحکام نے حکومت کو کمزور کیا۔

2004 میں شیخ حسینہ پر دستی بم حملے کے بعد سیاسی ماحول مزید تلخ ہو گیا، اور ان پر بھی الزامات لگائے گئے، جنہیں انہوں نے ہمیشہ سیاسی سازش قرار دیا۔

2006 میں فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ ہی خالدہ ضیا کا دوسرا دور اقتدار ختم ہوا۔ اور بعد کے برس ان کے لیے مشکل ثابت ہوئے۔

انہیں اور شیخ حسینہ کو بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا، تاہم 2008 کے انتخابات سے قبل رہائی ملی۔ 2018 میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سزا اور قید نے ان کی زندگی کو ایک اور کٹھن مرحلے میں داخل کیا، لیکن انہیں اور ان کے صاحبزادے طارق رحمان کو 2025 میں سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔

خالدہ ضیا کی صحت بتدریج بگڑتی گئی، مگر وہ سیاسی طور پر متحرک رہنے کی خواہشمند تھیں اور انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کر چکی تھیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء کے انتقال پر 3 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان، جنازہ اور تدفین کہاں ہوگی؟

ان کی زندگی جدوجہد، اقتدار، قید اور سیاسی استقامت کی مثال تھی۔ حامی انہیں باوقار اور ثابت قدم رہنما کے طور پر یاد رکھتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے دور حکومت کو تنازعات سے جوڑتے ہیں۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش کی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے اور ان کا نام ملکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟