اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ڈھاکہ جائیں گے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سردار ایاز صادق بیگم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
Heartfelt condolences on the sad demise of Begum Khaleda Zia, former Prime Minister of Bangladesh and Chairperson, Bangladesh Nationalist Party (BNP).
May Allah SWT grant her high place in Jannah and patience to the bereaved family. Ameen.🤲 pic.twitter.com/aiJITyhzlW
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) December 30, 2025
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کرگئی ہیں، جن کی نماز جنازہ کل بروز بدھ نماز ظہر کے بعد ادا کی جائےگی۔
بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیش نہ صرف بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ان خواتین رہنماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے سیاست میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔
خالدہ ضیا کی ابتدائی زندگی سیاست سے دور تھی اور وہ ایک سادہ، گھریلو خاتون کے طور پر جانی جاتی تھیں، جن کی زندگی کا محور ان کا خاندان تھا۔
تاہم 1981 میں ان کے شوہر، سابق صدر اور فوجی سربراہ ضیاالرحمان کے قتل نے ان کی زندگی بدل دی اور وہ عملی سیاست میں آئیں، اور چند برسوں میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت سنبھال لی۔
پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہی خالدہ ضیا نے غربت کے خاتمے، اقتصادی بہتری اور جمہوری اقدار کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ 1990 میں انہوں نے شیخ حسینہ کے ساتھ مل کر فوجی آمر حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ملک میں جمہوریت بحال ہوئی۔ ابتدا میں دونوں رہنماؤں کا مقصد مشترک تھا، مگر اقتدار کی سیاست نے جلد ہی انہیں ایک دوسرے کا سخت سیاسی حریف بنا دیا۔
1991 کے عام انتخابات میں خالدہ ضیا غیر متوقع کامیابی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سنبھالیں اور بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ پہلے دور حکومت میں انہوں نے صدارتی نظام کا خاتمہ کر کے پارلیمانی نظام نافذ کیا، پرائمری تعلیم کو مفت اور لازمی بنایا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو فروغ دیا۔
اگرچہ 1996 میں وہ اقتدار سے باہر ہو گئیں، لیکن سیاست میں فعال رہیں اور 2001 میں دوبارہ کامیابی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ ان کا دوسرا دور حکومت تنازعات سے بھرپور رہا، جس میں شدت پسندی، بدعنوانی کے الزامات اور سیاسی عدم استحکام نے حکومت کو کمزور کیا۔
2004 میں شیخ حسینہ پر دستی بم حملے کے بعد سیاسی ماحول مزید تلخ ہو گیا، اور ان پر بھی الزامات لگائے گئے، جنہیں انہوں نے ہمیشہ سیاسی سازش قرار دیا۔
2006 میں فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ ہی خالدہ ضیا کا دوسرا دور اقتدار ختم ہوا۔ اور بعد کے برس ان کے لیے مشکل ثابت ہوئے۔
انہیں اور شیخ حسینہ کو بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا، تاہم 2008 کے انتخابات سے قبل رہائی ملی۔ 2018 میں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سزا اور قید نے ان کی زندگی کو ایک اور کٹھن مرحلے میں داخل کیا، لیکن انہیں اور ان کے صاحبزادے طارق رحمان کو 2025 میں سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔
خالدہ ضیا کی صحت بتدریج بگڑتی گئی، مگر وہ سیاسی طور پر متحرک رہنے کی خواہشمند تھیں اور انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان بھی کر چکی تھیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء کے انتقال پر 3 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان، جنازہ اور تدفین کہاں ہوگی؟
ان کی زندگی جدوجہد، اقتدار، قید اور سیاسی استقامت کی مثال تھی۔ حامی انہیں باوقار اور ثابت قدم رہنما کے طور پر یاد رکھتے ہیں، جبکہ ناقدین ان کے دور حکومت کو تنازعات سے جوڑتے ہیں۔
تاہم یہ حقیقت ہے کہ خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش کی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے اور ان کا نام ملکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔














