پاکستان اپنی پہلی ففتھ جنریشن (5G) موبائل سروسز کی اسپیکٹرم نیلامی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کی اصولی منظوری دے دی ہے، جبکہ فروری 2026 تک نیلامی کے انعقاد کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے ملک میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کے فروغ میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انٹرنیٹ سروس کو درپیش مسائل کیا 5 جی اسپیکٹرم سے حل ہو جائیں گے؟
وفاقی کابینہ نے 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے اصولی منظوری دے کر ملک میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے لیے مضبوط سیاسی عزم کا اظہار کیا ہے۔ حکومت جلد نیلامی کے قواعد، بیس پرائسز، اور لائسنسنگ شرائط کا اعلان کرے گی تاکہ ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے واضح رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

نیلامی کے تحت مختلف فریکوئنسی بینڈز کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کی جائیں گی، جبکہ بولی کے طریقہ کار، لائسنس کی مدت اور ادائیگی کے شیڈول بھی واضح کیے جائیں گے۔ ٹیلی کام آپریٹرز کو مخصوص کوریج اور سروس ڈپلائمنٹ کے اہداف پورے کرنے کی ذمہ داری ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی کا نیا انقلابی فیچر کیا ہے؟
5G اسپیکٹرم نیلامی سے ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ، اسمارٹ سٹیز، ٹیلی میڈیسن اور ای گورننس جیسی جدید خدمات کے فروغ کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔














