پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 30 دسمبر کو افغان سرحد کے قریب ٹورگر پوسٹ پر خوارج دہشتگردوں کی دراندازی کو ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں 40 سے 45 دہشتگردوں میں سے 15 ہلاک اور 20 تا 25 زخمی ہوئے، جس سے ملک میں سکیورٹی فورسز کی چوکسی اور مؤثر کارروائی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان تعلقات میں نرمی؟ افغان علما کا بیان ’حوصلہ افزا مگر ناکافی‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق خوارج دہشتگرد گروپ افغان سرزمین سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ فورسز کی بروقت نشاندہی اور کارروائی نے ان کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا۔
پاکستانی سیکیورٹی ادارے ہر خوارج خطرے کے خلاف مستعد ہیں اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل الرٹ ہیں۔ اس کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کو پاکستان میں آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

افغان سرزمین خوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام کرتی ہے، جہاں وہ بلا خوف و خطر سرگرم رہتے ہیں، اور افغان طالبان کی مدد، بھرتی اور محفوظ گزرگاہ کی فراہمی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں کہ دہشتگرد گروپوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہ رہے۔ اس سے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے علاقائی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔














