سال 2025ء لاہور آرٹس کونسل الحمرا کے لیے تخلیق، تہذیب اور روایت کا سال ثابت ہوا۔ یہ برس اس اعتبار سے یادگار رہا کہ الحمرا نہ صرف فنونِ لطیفہ کا مرکز بنا رہا بلکہ ادب، موسیقی، تھیٹر اور ثقافت کی نئی جہتیں بھی متعارف کرواتا رہا۔ ہر مہینہ، ہر تقریب ایک تہذیبی جشن کی صورت سامنے آئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ادب و ثقافت دوست پالیسیوں کے مثبت نتائج نمایاں طور پر سامنے آئے، جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کی قیادت میں الحمرا اور عوام کے درمیان ایک مضبوط رشتہ تشکیل پایا۔ قومی دن ہوں یا ثقافتی تقریبات، الحمرا نے ہر موقع کو نئے انداز سے منایا۔
سال کے آغاز میں الحمرا میں فنونِ لطیفہ کی متنوع سرگرمیوں کا انعقاد ہوا۔ ستار و طبلہ کنسرٹ، ہاوی میوزک گروپ کی پرفارمنس، ونٹر بلیوز کنسرٹ اور صوفی فیسٹیول نے موسیقی کے شائقین کو متوجہ کیا۔ افکارِ تازہ تھنک فیسٹ، ماحولیاتی آگاہی پر مبنی تھیٹر ڈراما دھرتی ماں اور داستان گوئی فیسٹیول نے فکری و ادبی ماحول کو مزید تقویت دی۔ بچوں کے لیے خصوصی پروگرامز بھی اس مہینے کا نمایاں حصہ رہے۔
فروری میں الحمرا ایک بھرپور ادبی و ثقافتی مرکز بن کر ابھرا۔ وو فیسٹیول، فیض فیسٹیول اور لاہور لٹریری فیسٹیول نے لاہور کو ایک بار پھر عالمی سطح پر سٹی آف لٹریچر کے طور پر نمایاں کیا۔ پنجابی لٹریچر فیسٹیول نے ماں بولی کی خوشبو کو اجاگر کیا، جبکہ تھیٹر، کلاسیکل موسیقی، فیوژن نائٹس اور محفلِ سماع نے راتوں کو یادگار بنا دیا۔
مارچ میں نعتیہ مشاعرہ، ویمن ڈے کے موقع پر جرات مندانہ تھیٹر پرفارمنسز، خطاطی کی نمائش اور یومِ پاکستان کی پروقار تقریبات منعقد ہوئیں۔ حب الوطنی، روحانیت اور سماجی شعور اس مہینے کا مرکزی موضوع رہا۔
اپریل میں منیر نیازی کی سالگرہ، ادبی بیٹھکیں، مشاعرے اور کتابوں کی رونمائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پنجاب کلچر ڈے، تھیٹر فیسٹیول، قوالی نائٹ، کلاسیکل اور فرانسیسی موسیقی کے کنسرٹس نے ثقافتی رنگ بکھیر دیے۔ مدیحہ گوہر کو خراجِ تحسین اور فلم کلب کی سرگرمیاں بھی نمایاں رہیں۔
مئی میں ینگ آرٹسٹ نمائش، فلسطین کے بچوں سے اظہارِ یکجہتی پر مبنی پھولوں کی نمائش اور متعدد میوزک فیسٹیولز منعقد ہوئے۔ جون میں جشنِ اردو، آرٹسٹ ٹاکس، تھیٹر، حبیب جالب میلہ اور الحمرا سمر کیمپ نے زبان، ادب اور فنونِ لطیفہ کو نئی نسل تک منتقل کیا۔
جولائی میں عبداللہ حسین اور پطرس بخاری پر نشستیں، مشاعرہ، تھیٹر پرفارمنسز اور فلم اسکریننگز ہوئیں۔ اگست میں ادبی بیٹھک، یومِ آزادی کی تقریبات، بچوں کے تھیٹر اور قوالی کی محفلوں نے آزادی کے جذبے کو فن کے ذریعے اجاگر کیا۔
سال کے آخری مہینوں میں سیرتِ رسول ﷺ پر تقریبات، موسیقی کی شامیں، بین الاقوامی تھیٹر فیسٹیول، یورپین فلم فیسٹیول، صوفی فیسٹیول، کرسمس تقریبات اور متعدد یادگاری پروگرامز منعقد ہوئے۔ نورجہاں، نثار بزمی، رومی اور دیگر عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔
چیئرمین لاہور آرٹس کونسل الحمرا رضی احمد کے مطابق یہ تمام کامیابیاں حکومتِ پنجاب اور محکمہ اطلاعات و ثقافت کے بھرپور تعاون کا نتیجہ ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد نواز گوندل نے ان کامیابیوں کو ٹیم ورک اور مسلسل محنت کا ثمر قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ادب، فن اور ثقافت کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














