وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے معاون خصوصی خیبرپختونخوا شفیع اللہ جان کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی زبان کو لگام دیں اور عزت کرنا سیکھیں ورنہ ہمیں عزت کرانی آتی ہے۔
عطا تارڑ نے سماجی رابطوں کی سائٹ ایکس پرعظمیٰ بخاری سے متعلق بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی گھٹیا گفتگو پہلے بھی کی گئی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔ مشیر اطلاعات کے عہدے پر بیٹھے شخص کی یہ گفتگو کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔
انتہائی گھٹیا گفتگو پہلے بھی کی گئی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔ مشیر اطلاعات کے عہدے پر بیٹھے شخص کی یہ گفتگو کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی مذمت کرتے ہوئے، میں ان لوگوں کو کہوں گا کہ اپنی زبان کو لگام دیں، بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ ورنہ عزت کروانا بھی ہمیں آتی ہے۔ https://t.co/03SCHQ3Z4K
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) December 31, 2025
ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس کی مذمت کرتے ہوئے ان لوگوں کو کہوں گا کہ اپنی زبان کو لگام دیں۔ بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں۔ ورنہ عزت کروانا بھی ہمیں آتی ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کی زہریلی ثقافت ہے، ایک ایسا ذہن جو عمران خان کے ذریعے تشکیل پایا اور معمول بنا دیا گیا۔ یہ خواتین کو غیر انسانی بنا دیتا ہے، تشدد کو جائز ٹھہراتا ہے اور عورت دشمنی کو سیاسی طرزِ عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔
This is the toxic culture of PTI a mindset shaped and normalized by Imran Khan. It dehumanizes women, legitimizes abuse, and treats misogyny as political conduct. This is not accidental it is learned and enabled. Tragic and heartbreaking that this is unfolding in KP a land known… https://t.co/fV3hq708x4
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) December 31, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں یہ سکھایا گیا ہے اور اس کی سرپرستی کی گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ یہ سب خیبر پختونخوا میں ہو رہا ہے جو خواتین کے احترام کے لیے جانا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بدقسمتی دیکھیں یہ ایک صوبے کے مشیر اطلاعات کی زبان ہے۔ ان کا کہنا تھا کے میں ان لیول پر نہیں گر سگتا لیکن پہلے بھی کہا ہے اب بھی کہتا ہوں کہ سیاسی اختلاف رکھیں لیکن کم از کم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا احترام تو سیکھ لیں۔
طارق فضل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے سے آج تک یہی بد زبانی، یہی انداز گفتگو کہیں تو رک جانا چاہیے لیکن شاید حکم ملتا اور پھر اس کی تعمیل کی جاتی ہے۔ صوبائی وزیراطلاعات کے بارے میں یہ الفاظ اور زبان انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔
بدقسمتی دیکھیں یہ ایک صوبے کے مشیر اطلاعات کی زبان ہے ، ان کے لیول پر نہیں گر سگتا لیکن پہلے بھی کہا کہ اب بھی کہتا ہوں کہ سیاسی اختلاف رکھیں لیکن کم از کم ماوں ، بہنوں ، بیٹیوں کا احترام تو سیکھ لیں
دھرنے سے آج تک یہی بد زبانی یہی انداز گفتگو کہیں تو رک جانا چاہیے ، لیکن شاید… https://t.co/odhbBWUzee— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) December 31, 2025
واضح رہے کہ معاون خصوصی خیبرپختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا تھا کہ عظمی بخاری سیاسی خانہ بدوش ہیں۔ وہ پختونوں کے بارے میں جنگلی جیسے القابات استعمال کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ انہیں جنگلی بہت پسند ہیں۔ وہ ہمیں پہلے بتاتیں تو ہم ان کے لیے 3 4 جنگلی لوگوں کا بندوبست کر لیتے ان کی خواہش بھی پوری ہو جاتی۔
عظمی بخاری سیاسی خانہ بدوش ہیں۔ وہ پختونوں کے بارے میں جنگلی جیسے القابات استعمال کرتی ہیں ہمیں نہیں معلوم تھا کہ انہیں جنگلی بہت پسند ہیں۔ وہ ہمیں پہلے بتاتیں تو ہم ان کے لیے 3 4 جنگلی لوگوں کا بندوبست کر لیتے انکی خواہش بھی پوری ہو جاتی، شفیع اللہ جان pic.twitter.com/VKg0L4pDYa
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) December 30, 2025
اس پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس جنگلی نے اپنی تربیت، گٹر زبان اور ذہنیت پھر دکھا دی، اس کی والدہ اور گھر کی باقی عورتوں سے دلی ہمدردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے گڑ ذہنیت اور زبان کے لوگ پختونوں کے نام پہ دھبہ ہیں۔ یہ صرف جنگلی نہیں،جنگلی جانور ہیں۔
اس جنگلی کا ایک اور کارنامہ،اپنی تربیت اور گٹر زبان اور ذہنیت پھر دکھا دی،اسکی والدہ اور گھر کی باقی عورتوں سے دلی ہمدردی ہے
ایسے گڑ ذہنیت اور زبان کے لوگ پختونوں کے نام پہ دھبہ ہیں
یہ صرف جنگلی نہیں،جنگلی جانور ہیں https://t.co/Vqyyy15vYW— Azma Zahid Bokhari (@AzmaBokhariPMLN) December 31, 2025














