جنوبی کوریا کے محققین کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ڈارک انرجی سے تعبیر کی جانیوالی ایک پراسرار قوت کائنات کو اس انداز میں متاثر کر رہی ہے کہ مستقبل میں وہ سکڑ کر تباہ بھی ہو سکتی ہے، جسے سائنس کی زبان میں ’بِگ کرنچ‘ کہا جاتا ہے۔
سیول کی یونسی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تازہ تحقیق کے مطابق کائنات مسلسل پھیلنے کے بجائے اب سست روی کا شکار ہو چکی ہے اور ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث کہکشائیں دوبارہ ایک دوسرے کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں، جو بالآخر کائنات کے خاتمے پر منتج ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کائنات کے راز کھولنے والا انقلابی آلہ ’فروسٹی‘ تیار کرلیا گیا
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت فلکیات میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
Our Universe is heading for gravitational collapse known as the ‘Big Crunch’ as dark matter is ‘rapidly changing’: study https://t.co/LkaVc8Uyb2 pic.twitter.com/zJ2IqOmgTJ
— New York Post (@nypost) December 29, 2025
ان کے مطابق بگ بینگ کے بعد وجود میں آنے والی کائنات اب تیز رفتاری سے پھیل نہیں رہی بلکہ ڈارک انرجی کے بدلتے اثرات کے باعث اس کی توسیع سست پڑتی جا رہی ہے۔
تحقیق کے سربراہ پروفیسر ینگ ووک لی کے مطابق ان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں کائنات سست رفتار توسیع کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ڈارک انرجی وقت کے ساتھ پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
’۔۔۔اگر یہ نتائج درست ثابت ہو گئے تو یہ 27 سال قبل ڈارک انرجی کی دریافت کے بعد کاسمولوجی میں ایک بڑا نظریاتی انقلاب ہوگا۔‘
ڈارک انرجی کیا ہے؟
ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کششِ ثقل کے باعث کائنات کی توسیع بتدریج سست ہو جائے گی، تاہم 1998 میں ماہرینِ فلکیات نے ڈارک انرجی کے شواہد دریافت کیے، جسے کائنات کی تیز رفتار توسیع کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
کچھ نظریات کے مطابق اگر کائنات اسی طرح پھیلتی رہی تو ستارے ایک دوسرے سے اتنی دور ہو جائیں گے کہ رات کے آسمان میں کچھ نظر ہی نہیں آئے گا، جبکہ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ قوت ایٹمز کو بھی چیر سکتی ہے، جسے ’بِگ رِپ‘ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
مارچ میں ایریزونا کے صحرا میں نصب ڈارک انرجی اسپیکٹرواسکوپک انسٹرومنٹ یعنی ڈیسی سے حاصل ہونے والے نتائج نے بھی وقت کے ساتھ کہکشاؤں کی رفتار میں تبدیلی کے شواہد فراہم کیے ہیں۔
ڈیسی منصوبے سے وابستہ یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر اوفر لہاو کے مطابق ڈارک انرجی کے بڑھنے اور پھر کم ہونے کے آثار ایک نئے میکنزم کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں، جو پوری طبیعیات کے لیے ہلچل مچا سکتے ہیں۔
تاہم کیمبرج یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرونومی سے تعلق رکھنے والے سینیئر ماہرِ فلکیات پروفیسر جارج ایفستھیاؤ سمیت بعض سائنس دانوں نے پروفیسر لی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شواہد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔












