فٹ بال سے کتاب تک، اسما حافظ کے ٹوٹتے خواب اور ہماری بے بسی

بدھ 31 دسمبر 2025
author image

سعید وزیر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی وزیرستان کے علاقے تنائی کی گرد آلود گلیوں میں جب ایک ننھی سی بچی فٹ بال کو ٹھوکر مارتی ہے تو لمحہ بھر کو دنیا رک سی جاتی ہے۔ لوگ اسے ’فٹ بال والی بچی‘ کہہ کر داد دیتے ہیں۔

شعیب اختر جیسے بڑے نام اس کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، تعریفوں کی بارش ہوتی ہے اور تالیاں گونج اٹھتی ہیں۔ مگر اس فٹ بال کی گردش میں چھپا وہ خاموش دکھ کوئی نہیں دیکھ پاتا جو اسما حافظ کی آنکھوں میں ٹھہرا رہتا ہے۔

یہ دکھ علم سے دوری کا ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اس بچی کی نگاہوں میں فٹ بال نہیں بلکہ ایک کھلی ہوئی کتاب کا خواب بستا ہے۔ اس بچی کا نام اسما حافظ ہے، اور اس کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے، مگر پڑھ نہیں سکتی۔

اسما کا خواب ڈاکٹر بننا ہے، انسانوں کا درد کم کرنا ہے، مگر اس کے اپنے علاقے میں علم ہی نایاب ہے۔ سرکاری کاغذات میں جنوبی وزیرستان میں سینکڑوں اسکول موجود ہیں، مگر حقیقت میں یہ عمارتیں ویران پڑی ہیں، جیسے خوابوں کی قبریں۔ تنائی میں لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول کا نہ ہونا اسماء کے تعلیمی سفر پر ایسا تالا ہے جس کی چابی اس ننھی بچی کے ہاتھ میں نہیں۔

اسما کے الفاظ شور نہیں، سچ کی ایک دھیمی مگر گہری صدا ہیں۔ وہ کہتی ہے، ’لوگ مجھے فٹ بال والی بچی کہتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ میرے ہاتھ میں کتاب کیوں نہیں؟ میں فٹ بال کو تو ٹھوکر مار سکتی ہوں، مگر میں نے اپنی تعلیم کو کبھی لات نہیں ماری۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں، بستہ اٹھانا چاہتی ہوں، مگر میرے گاؤں میں علم کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔‘

4 سال گزر چکے ہیں۔ 4 ایسے سال جو کسی بھی بچے کی زندگی میں بنیاد رکھتے ہیں، مگر اسما کے لیے یہ سال محض انتظار بن کر رہ گئے کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے، شاید کوئی اس  کی دل کی بات سن لے اور اس کے خواب سچ ثابت ہوجائیں۔

مایوسی کے باوجود اسما نے ہار نہیں مانی۔ اس نے آن لائن تعلیم کا سہارا لیا، یوٹیوب کے اساتذہ، موبائل کی چھوٹی اسکرین اور کمزور امیدوں کے ساتھ۔ مگر جنوبی وزیرستان کے پہاڑوں میں انٹرنیٹ بھی اس بچی کا ساتھ نہ دے سکا۔ کبھی سگنل غائب ہو جاتا ہے، کبھی آواز ادھوری رہ جاتی ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان کے دعوؤں کے درمیان ایک بچی اپنے مستقبل کو بار بار جوڑنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ہر بار کڑی ٹوٹ جاتی ہے۔

اسما کے بھائی کی خاموشی خود ایک فریاد بن جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں، ’جب اسما مجھ سے پوچھتی ہے کہ بھائی! میں اسکول کب جاؤں گی؟ تو میری زبان بند ہو جاتی ہے۔ یہ میری کمزوری نہیں، بلکہ اس نظام کی ناکامی ہے جو میری بہن کو اس کا بنیادی حق نہیں دے سکا۔‘

ملک نور الرحمان اور  مرحوم  شاہ حسین جیسے کچھ نیک دل لوگوں نے اسما کو دانش اسکول تک پہنچانے کی کوشش کی، مگر فائلوں، ضابطوں اور سرد بیوروکریسی نے اس ننھی امید کو بھی تھکا دیا۔ نظام کی پیچیدگیوں میں ایک اور خواب الجھ کر رہ گیا۔

آج اسما حافظ کی نظریں وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف لگی ہیں۔ اس کی اپیل نہ بڑی ہے، نہ پیچیدہ۔ وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ اسے پڑھنے دیا جائے، اسے دانش اسکول میں داخلہ ملے اور اس کے علاقے میں تعلیم کا دروازہ کھلے۔

یہ سوال صرف اسما کا نہیں، یہ پورے معاشرے کا امتحان ہے۔ کیونکہ جب ایک بچی کا خواب ٹوٹتا ہے تو صرف ایک فرد محروم نہیں ہوتا، بلکہ ایک قوم کا مستقبل بھی سست پڑ جاتا ہے۔ اسما آج فٹ بال کو ٹھوکر مارتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی اس کے ہاتھ میں کتاب تھمائیں گے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا

لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دے دی گئی

مذاکرات موجودہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لیے ہوں گے، محمود اچکزئی، اسمبلیوں سے استعفوں کا بھی عندیہ

کراچی اوپن اسکواش: پہلا دن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام رہا

آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ

ویڈیو

ڈنکے کی چوٹ پر آپریشن ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیبرپختونخوا حکومت کو سخت جواب

خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار ماحول میسر ہے، وزیراعلیٰ کا بیانیہ کھل کر سامنے آگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

مذاکرات صرف میڈیا کی زینت ہیں، کوئی حقیقی پیشرفت نہیں، وزیردفاع خواجہ آصف

کالم / تجزیہ

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟

ہم نے آج تک دہشتگردی کے خلاف جنگ کیوں نہیں جیتی؟