پاور ڈویژن نے سال 2025 کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بجلی کے شعبے میں اہم اصلاحات، ریلیف اقدامات اور مالی بہتری سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی پی پیز سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں صارفین اور قومی خزانے پر پڑنے والا 3400 ارب روپے کا بوجھ ختم کر دیا۔
مزید پڑھیں: پاور ڈویژن کی کاوشیں: بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کردی گئی
’ان اقدامات کے باعث گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت کم ہو کر 35.8 روپے جبکہ صنعتی صارفین کے لیے 68.16 روپے فی یونٹ ہو چکی ہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش سے بجلی صارفین پر 7 ارب روپے کا اضافی بوجھ کم کیا گیا، جبکہ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے 98.22 روپے کا خصوصی پیکج بھی متعارف کرایا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساڑھے نو ہزار میگاواٹ کے بجلی منصوبے ختم کر کے عوام کو ایک روپے فی یونٹ ریلیف فراہم کیا گیا۔
پاور ڈویژن کے مطابق بغیر قرض لیے گردشی قرضے میں 780 ارب روپے کی کمی لائی گئی، جبکہ بجلی بلوں سے پی ٹی وی فیس کی مد میں 35 روپے کی وصولی بھی ختم کرا دی گئی۔ سال 2025 کے دوران تین ڈسکوز کی نجکاری کا آغاز کیا گیا۔
کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے ٹیرف میں 44 فیصد کمی کی گئی، جبکہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کرنے اور ادائیگیوں میں رعایت دی گئی۔ ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ ایپ کے ذریعے میٹر ریڈنگ کا اختیار عام صارف کو دیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سال 2025 میں 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے سفارشی کلچر کے خاتمے اور صارفین کے ساتھ یکساں سلوک کو ممکن بنایا گیا۔ مسابقتی اور شفاف بولی کے عمل کے باعث سمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی آئی، جبکہ سمارٹ میٹرز کے نظام میں بہتری سے صارفین کو سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: آڈٹ رپورٹ ابتدائی مرحلے میں ہے، مکمل جانچ باقی ہے، پاور ڈویژن کا مؤقف
رپورٹ کے مطابق ملک میں 55 فیصد ماحول دوست بجلی کی پیداوار کے باعث پاکستان خطے میں گرین انرجی کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی عوام اور صنعتی صارفین کو بین الاقوامی قیمت اور معیار کے مطابق بجلی کی فراہمی جاری رکھی جائے گی، جبکہ 2026 میں بھی بے مثال کارکردگی کا سفر جاری رہے گا۔














