پنجاب حکومت نے مشروط بسنت سے قبل صوبے بھر میں پتنگ سازی اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3روزہ ’محفوظ بسنت‘ منانے کا فیصلہ، سخت قوانین نافذ
واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے صرف 6، 7 اور 8 فروری کو مشروط طور پر پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے تاہم ان مقررہ دنوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر پتنگ اڑانے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سیکریٹری داخلہ پنجاب نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو پابندی پر فوری اور ہر صورت عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
انہوں نے مخصوص دنوں کے علاوہ پتنگ بازی کے واقعات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ پابندی کے باوجود پتنگ بازی کیسے ہو رہی ہے۔
اس حوالے سے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو پتنگ بازی کے مکمل تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیے: لاہور میں بسنت منانے کی شرائط و ضوابط کیا ہوں گی؟ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے بتا دیا
حکومت پنجاب کی جانب سے صرف 6، 7 اور 8 فروری کو مشروط طور پر پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے تاہم ان مقررہ دنوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر پتنگ اڑانے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے پابندی پر سختی سے عملدرآمد کے لیے تمام اضلاع کو باقاعدہ مراسلے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: بسنت منانے کی تیاریاں، پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025 قائمہ کمیٹی سے منظور
اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کو غیر رجسٹرڈ پتنگ فروشوں اور ڈور بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔














