ایران ترکیہ سرحد کے نزدیک غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہونے والے 2 پاکستانی شہریوں کی لاشیں پاکستان منتقل کردی گئی ہیں۔
اس موقع پر ایک سینیئر سفارتکار نے انسداد غیر قانونی ہجرت کے اقدامات کے پیشِ نظر انسانی اسمگلرز کے خلاف وارننگ جاری کی ہے۔
مزید پڑھیں: انسانی اسمگلنگ روکنے اور امیگریشن آسان بنانے کے لیے ایف آئی اے نے اہم فیصلہ کرلیا
حکام کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں اس سال یورپ کی جانب غیر قانونی ہجرت میں 47 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور 1700 سے زیادہ مشتبہ انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا۔
تاہم لوگ اب بھی بہتر معاشی مواقع اور روزگار کی تلاش میں خطرناک غیر قانونی سفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کے ایران میں سفیر محمد مدثر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ پاکستانی شہری ارمان اللہ ولد گل رحمان اور احتشام ولد مختار گل جو دونوں نوشہرہ کے رہائشی تھے، کی لاشیں آج تفتان بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچا دی گئی ہیں۔
’دونوں شہری انسانی اسمگلرز کی ہوس کا شکار ہوئے اور ایران کی سرحد کے قریب انتہائی سخت موسمی حالات میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ میں ایک بار پھر وطن کے نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ انسانی اسمگلرز کے جال میں نہ پھنسیں اور قانونی طریقے سے بیرون ملک سفر کریں۔
انہوں نے بلوچستان حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے لاشوں کی منتقلی کا بندوبست کیا اور مرحومین کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔
واضح رہے کہ غیر قانونی ہجرت کا مسئلہ 2023 کے بعد مزید توجہ کا مرکز بن گیا، جب سینکڑوں افراد جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے انسانی اسمگلنگ اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کی تحقیقات کا آغاز کیا۔
اس دوران حکام نے ہوائی اڈوں پر جعلی سفری دستاویزات کے ساتھ پاکستانی اور غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا، جس سے غیر قانونی سفر میں دستاویزاتی دھوکہ دہی کے بڑے پیمانے کا پتا چلا۔
مزید پڑھیں: ایف آئی اے امیگریشن کی کارروائی، کمبوڈیا میں سرگرم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا ملزم گرفتار
ستمبر میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان کے 100 سے زیادہ سب سے مطلوبہ انسانی اسمگلرز کی فہرست جاری کی اور پنجاب اور اسلام آباد میں اہم اسمگلنگ مراکز کی نشاندہی کی۔
اس ماہ کے آغاز میں پاکستان نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر جنوری سے مصنوعی ذہانت پر مبنی امیگریشن اسکیننگ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا، جس کا مقصد جعلی دستاویزات کی شناخت اور غیر قانونی بیرون ملک سفر کو روکنا ہے، تاکہ انسانی اسمگلنگ اور غیر مجاز ہجرت کے خلاف اقدامات مزید مؤثر ہوں۔














