سال 2026 کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک فیصلہ کن مگر محتاط امیدوں کا سال قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف معاشی استحکام کی کوششیں، برآمدات میں اضافے کے اہداف اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے وعدے سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری جانب موسمیاتی خطرات، عالمی معاشی سست روی اور اندرونی مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
پاکستان کی متوقع معاشی بڑھوتری
بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ملکی معاشی اداروں کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار جی ڈی پی کی شرح نمو 2026 میں قریباً 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، آئی ایم ایف نے اس شرح کو قریباً 3.6 فیصد قرار دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق معیشت 3.25 سے 4.25 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: برآمدات میں اضافے پر مبنی ملکی معاشی ترقی کے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں، وزیراعظم
تاہم ورلڈ بینک نے زرعی نقصانات اور موسمی اثرات کے باعث قدرے کم یعنی 2.6 فیصد نمو کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ترقی کی رفتار بہتر ضرور ہو سکتی ہے مگر یہ مکمل طور پر خطرات سے پاک نہیں ہوگی۔
معاشی خطرات کے پیش نظر حکومت کا برآمدات بڑھانے پر زور
اسی پس منظر میں حکومت نے برآمدات کو معیشت کی بحالی کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے 2026 تک برآمدات کا ہدف قریباً 44.9 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، جس میں ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، خدمات اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے، اگر یہ ہدف جزوی طور پر بھی حاصل ہو جاتا ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر، صنعتی پیداوار اور روزگار کے مواقع پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے تصویر ملی جلی ہے، چین بدستور پاکستان کا سب سے بڑا شراکت دار ہے اور سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں، توانائی اور برآمدی صنعتوں میں قریباً 11 ارب ڈالر تک کے ممکنہ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔
اس کے علاوہ عالمی فارماسیوٹیکل کمپنی ہیلیون کی جانب سے پاکستان میں 12 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اور دیگر مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے جاری کاروباری سودے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد ابھی بھی قائم ہے۔
براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار میں اتار چڑھاؤ یہ بتاتا ہے کہ مجموعی ماحول اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔
سعودی عرب کی سرمایہ کاری
اس مجموعی معاشی منظرنامے میں سعودی عرب کی متوقع سرمایہ کاری 2026 کے لیے خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، سعودی ریاستی مائننگ فنڈ منارا منرلز کی جانب سے ریکوڈک تانبے اور سونے کی کان میں 10 سے 20 فیصد حصص خریدنے کی دلچسپی، جو قریباً 9 ارب ڈالر مالیت کا منصوبہ ہے، پاکستان کے معدنی شعبے اور برآمدات کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سعودی سرمایہ کاروں کو بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں جیسے M-6 سکھر حیدرآباد، M-10 حیدرآباد کراچی، M-13 کھاریاں راولپنڈی اور مانسہرہ ناران، جلکھڈ چلاس سڑک میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی گئی ہے، جن کا مقصد ملکی لاجسٹکس، علاقائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو مضبوط بنانا ہے۔
بندرگاہوں اور شپنگ کے شعبے میں بھی سعودی شراکت کے تحت کراچی اور گوادر کو خلیجی خطے سے جوڑنے والے گیٹ وے ٹرمینلز، براہِ راست شپنگ لائنوں اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بیڑے کی توسیع جیسے منصوبے زیرِ غور ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں سعودی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں اے آئی حب، سائبر سیکیورٹی اور آئی ٹی انفراسٹرکچر میں تعاون کے منصوبے سعودی وژن 2030 اور پاکستان کی ٹیک پالیسی سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی 2800 میگاواٹ تک کے شمسی توانائی منصوبوں پر جی ٹو جی بنیادوں پر بات چیت جاری ہے، جو نہ صرف توانائی بحران میں کمی بلکہ ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر سعودی عرب کی جانب سے قریباً 10 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کے امکانات زیرِ غور ہیں، جن میں معدنیات، توانائی، آئی ٹی، زراعت، خوراک، صحت اور سیاحت جیسے شعبے شامل ہیں اور گزشتہ برسوں میں 2.2 ارب ڈالر سے زیادہ کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔
امریکی سرمایہ کاری
سال 2026 میں پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے حوالے سے سب سے نمایاں وعدہ قریباً 500 ملین امریکی ڈالر کا ہے، جو امریکی کمپنیوں کے ساتھ اہم معدنیات یا کریٹیکل منرلز کے شعبے میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کے تحت سامنے آیا ہے، جن میں معدنی وسائل کی تلاش، پروسیسنگ اور ریفائنری انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے۔
یہ معاہدے اگرچہ 2025 میں طے پائے مگر ان پر عملی پیش رفت 2026 میں متوقع ہے، اس کے علاوہ اگرچہ اسے براہِ راست سرمایہ کاری نہیں کہا جا سکتا، تاہم امریکا نے پاکستان کے دفاعی شعبے کے لیے قریباً 686 ملین ڈالر کے پیکیج کی منظوری بھی دی ہے جس میں F-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن اور تکنیکی سپورٹ شامل ہے۔
یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 2026 میں پاکستان کے لیے امریکا کی جانب سے واضح اقتصادی وعدہ قریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے، جبکہ دفاعی و تکنیکی تعاون اس کے ساتھ ایک ضمنی مگر اہم عنصر کے طور پر موجود ہے۔
مجموعی صورتحال
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سال 2026 پاکستان کے لیے نہ تو غیر معمولی معاشی چھلانگ کا سال ہوگا اور نہ ہی مکمل جمود کا، بلکہ یہ ایک ایسا مرحلہ ہو سکتا ہے جہاں معتدل جی ڈی پی گروتھ، برآمدات میں تدریجی بہتری اور سعودی عرب سمیت دیگر شراکت داروں کی سرمایہ کاری اگر مؤثر پالیسی تسلسل، سیاسی استحکام اور اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھے تو معیشت کو ایک نسبتاً پائیدار راستے پر ڈالا جا سکتا ہے۔
تاہم کسی بھی بڑی پیش رفت کا انحصار اسی بات پر ہوگا کہ حکومت وعدوں کو عملی منصوبوں میں کس حد تک تبدیل کر پاتی ہے۔
پاکستان کے ساحلی اور سیاحتی شعبے میں 2026 کے اہم ترقیاتی منصوبے
حکومت پاکستان نے سال 2026 میں ملک کے ساحلی اور سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم منصوبے متعارف کروائے ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تشہیر ہے۔
ساحلی شعبے کی ترقی
پاکستان کی بلو اکونومی اور ساحلی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے ’میری ٹائم وژن 2035‘ کے تحت کراچی پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کو جدید سہولیات اور ڈیجیٹل آپریشنز کے ساتھ عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس کے علاوہ نئی گہری سمندر بندرگاہوں کی تیاری کے لیے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی جا رہی ہے، تاکہ پاکستان علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر ابھر سکے۔
کراچی ساحلی ترقیاتی زون کے تحت قریباً 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ماڈرن فشریز پورٹ، فش ایکسپورٹ زون، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ساحلی پل تعمیر کیے جائیں گے، جو مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔
اسی طرح گڈانی شپ ری سائیکلنگ یارڈ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بیڑے میں توسیع کی جائے گی۔
مچھلی اور ایکوا کلچر سیکٹر کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں گوادر میں فش پروسیسنگ اور کولڈ اسٹوریج فیسلٹیز کی توسیع اور ایکواکلچر پارکس کے قیام کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔ علاقائی اور غیر ملکی شراکت داری کے ذریعے ساحلی تجارت کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سیاحتی شعبے کی ترقی
پاکستان کے سیاحتی شعبے کو ترقی دینے کے لیے بھی بڑے منصوبے زیر عمل ہیں۔ پنجاب میں ’میگنیفیسینٹ پنجاب‘ پلیٹ فارم کے تحت 170 سے زیادہ سیاحتی مقامات اور ٹریلز کی بحالی اور ترقی کی جا رہی ہے، جس میں ورچوئل ٹورز، ہوٹل بکنگ اور معلوماتی پلیٹ فارم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحتی گاؤں کے قیام سے مقامی روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
سالانہ منعقد ہونے والے چولستان ڈیزرٹ ریلی 2026 جیسے ایونٹس کے ذریعے پاکستان کی ثقافتی اور ایڈونچر سیاحت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا میں ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے رورل سیاحتی انفراسٹرکچر، ایكو پارکس، کیمپ وِلجز اور ایڈونچر زونز قائم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی مقامات بھی ترقی کے دائرے میں ہیں، پنجاب میں 60 قدیم اور ثقافتی مقامات کی بحالی، لاہور میوزیم کی ترقی اور ٹیکسلا کو انٹرنیشنل ہیریٹیج سٹی کے طور پر فروغ دینے کے منصوبے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایس آئی ایف سی کا مثبت کردار: برآمدات میں اضافے کے باعث معاشی ترقی کی راہیں ہموار
صوبائی سطح پر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں بھی ایكو ٹورزم، ایڈونچر پارکس اور رورل سیاحتی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹنگ کے پروگرامز، سفارتی شراکتیں اور سوشل میڈیا آؤٹ ریچ کے ذریعے پاکستان کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثہ اور ایڈونچر سیاحت عالمی سطح پر اجاگر کی جا رہی ہے۔













