یوں تو امریکا مختلف ممالک اور ان کے شہریوں پر اپنی مرضی کے مطابق پابندیاں عائد کرتا رہتا ہے لیکن کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے امریکیوں کا داخلہ بند کیا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یکطرفہ امریکی پابندیوں نے اقوام متحدہ کی ماہر کو مالیاتی نظام سے باہر دھکیل دیا
مالی اور برکینا فاسو نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو اپنے ممالک میں داخلے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اس اقدام کا تعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے ہے جس میں انہوں نے مالی، برکینا فاسو اور دیگر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔ ٹرمپ نے پہلے سے موجود سفری پابندیوں کو بڑھاتے ہوئے مزید 20 ممالک کو شامل کیا جن میں نائجر بھی شامل ہے۔
مالی اور برکینا فاسو کے زیر انتظام ممالک فوجی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں اور انہوں نے خطے کے گروپ ECOWAS سے علیحدگی اختیار کی ہے۔
مزید پڑھیے: تیسری دنیا کے شہریوں کی امریکی امیگریشن پر پابندی: پاکستانی کس حد تک متاثر ہوں گے؟
امریکا نے ان پابندیوں کی وجہ اسلحہ بردار گروہوں کے جاری حملوں کو قرار دیا ہے اور یہ پابندیاں یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
مالی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ جو اصول باہمی احترام اور توازن کا ہے۔ اس کے مطابق مالی کی حکومت امریکی شہریوں پر وہی شرائط اور ضروریات لاگو کرے گی جو مالی شہریوں پر امریکا نے عائد کی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں
اسی طرح برکینا فاسو کے وزیر خارجہ کاراموکو ژاں ماری ٹراوری نے بھی اسی نوعیت کے دلائل پیش کرتے ہوئے امریکی شہریوں پر داخلے کی پابندی کا اعلان کیا۔














