لاہور ہائیکورٹ نے بیوی سے مبینہ طور پر زبردستی غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے اور نازیبا ویڈیوز بنانے کے الزام میں نامزد ملزم عون محمد کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
درخواست گزار کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ملزم کو 5 لاکھ روپے مالیت کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
ملزم کی عبوری ضمانت کی درخواست پر 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق ندیم نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ازدواجی تعلقات میں غیر فطری جنسی تعلق کو ’ریپ‘ نہیں سمجھا جائے گا، مدھیہ پردیش ہائیکورٹ
فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ شریعت کے مطابق بیوی سے غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنا ممنوع ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف وزیرآباد میں بیوی سے غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے پر زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ملزم نے بیوی کو زبردستی غیر فطری جنسی تعلقات پر مجبور کیا اور اس کی نازیبا تصاویر بھی بنائیں۔
مزید پڑھیں: امریکا نے چین میں موجود اہلکاروں پر چینی شہریوں کے ساتھ رومانی یا جنسی تعلقات پر پابندی عائد کردی
عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ وقوعہ کے تقریباً 3 ماہ بعد مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ شکایت کنندہ نے اس دوران کسی فورم سے رجوع نہیں کیا۔
عدالت کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شکایت کنندہ کے دل میں شوہر کے خلاف رنجش موجود تھی۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان حالات میں یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ شکایت کنندہ نے ازدواجی تنازع کے باعث درخواست گزار کو دباؤ میں لانے کے لیے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا ہو۔
مزید پڑھیں: رجب بٹ نے جنسی زیادتی، استحصال اور تشدد کیا، تمام ثبوت موجود ہیں، ٹک ٹاکر فاطمہ خان کا دعویٰ
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ میڈیکل اور ڈی این اے رپورٹس میں ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جو غیر فطری جنسی تعلقات کے الزامات کی تصدیق کریں۔
مزید برآں، درخواست گزار کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اس پر ضمانت کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام بھی سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: پرنس اینڈریو کے جرائم پیشہ لوگوں سے تعلقات اور جنسی زیادتیاں، شاہی محل میں تنازع شدت اختیار کر گیا
عدالت نے قرار دیا کہ عبوری ضمانت ایک غیر معمولی ریلیف ہے جو غیر معمولی حالات میں دی جاتی ہے۔
’تاہم کیس کے حقائق اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کی عبوری ضمانت کی توثیق کی جاتی ہے۔‘














