کنزیومر پروٹیکشن عدالت کراچی جنوبی نے مریض کو غلط لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ جاری کرنے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کو 16 لاکھ 80 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسپتال طبی غفلت اور ناقص سروس کا مرتکب ہوا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے لیبارٹری ٹیسٹ میں ہیپاٹائٹس سی کو ری ایکٹو ظاہر کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی دباؤ، خوف اور سماجی بدنامی کا شکار ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن اذان کے والدین کو انصاف مل گیا، کے الیکٹرک بھاری ہرجانہ ادا کریگا
درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ارسلان راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ غلط اور خوفناک رپورٹ نے مریض کی زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔
درخواست گزار نے وہی لیبارٹری ٹیسٹ بعد ازاں ڈاؤ لیب سے کروایا، جہاں رپورٹ میں ہیپاٹائٹس سی نان ری ایکٹو پایا گیا۔
دورانِ سماعت یہ بات بھی سامنے آئی کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے نمونوں کے تبادلے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ درخواست گزار کو کسی اور مریض کی رپورٹ جاری ہو گئی تھی۔
مزید پڑھیں: صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر گوگل کو 425 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
عدالت نے فیصلے میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال نے لیبارٹری کے معیاری اصولوں کی خلاف ورزی کی۔
عدالت کے مطابق اسپتال کسی مستند لیبارٹری اسٹاف کو بطور گواہ پیش کرنے میں بھی ناکام رہا، جو اس کی غفلت کو مزید واضح کرتا ہے۔
کنزیومر پروٹیکشن عدالت نے قرار دیا کہ غلط اور خوفناک طبی رپورٹ کا اجرا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ فیصلہ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور طبی اداروں کو معیار اور احتیاط کا پابند بنانے کے حوالے سے ایک اہم مثال ثابت ہوگا۔












