ترکیہ کے شہر استنبول میں ہزاروں افراد نے نئے سال کے آغاز پر غزہ کی حمایت میں مارچ کیا۔
مظاہرین صبح سویرے استنبول کی مشہور مساجد میں جمع ہوئے جن میں حاجیہ صوفیہ گرانڈ مسجد، سلطان احمد، فاتح، سلیمانیہ، اور امینو نوو مسجد شامل ہیں۔ مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور مساجد کے صحنوں میں ترکی اور فلسطینی پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ’غزہ جل رہا تھا تو خاموشی، اب احتجاج کیوں؟‘، سوشل میڈیا صارفین کا ٹی ایل پی پر اعتراض
انہوں نے مزید بتایا کہ فٹ بال کلب بھی اپنے شائقین سے مظاہروں میں شرکت کی اپیل کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی ایک ایسا ہی مظاہرہ ہوا تھا جس کا انتظام صدر رجب طیب اردوان کے بیٹے بلال اردوان نے کیا تھا۔

سرد موسم کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد مظاہرے کے لیے موجود تھی۔ حکام نے سلطان احمد اسکوائر کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیے، اور شرکا کے لیے گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔
نماز فجر کے بعد مظاہرین گالاتا برج کی جانب مارچ کیا، جس میں وزراء، سینیئر حکومتی عہدیدار اور ریاستی شخصیات بھی شریک ہوئے۔














