پنجاب بار کونسل نے وکلا کے ہڑتال کے باوجود کراچی کی ایک عدالت میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کی وکالت کرنے پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا پریکٹس لائسنس معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 60 بندوں نے مارا مگر معافی نہیں مانگی، تشدد کے بعد رجب بٹ نے خاموشی توڑ دی
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب کراچی میں وکلا کی جانب سے ہڑتال جاری تھی اور عدالتی کارروائیاں معطل تھیں۔
ہڑتال کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی گئی تھی جس کے باعث سٹی کورٹس کے احاطے میں عدالتی کارروائی پر مکمل پابندی عائد تھی۔
پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین ذبیح اللہ ناگرا کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق یہ اقدام کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے بعد کیا گیا۔
خط میں اس ویڈیو کی نشاندہی کی گئی جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی جس میں ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کو کراچی سٹی کورٹس میں وکلا کی ہڑتال کے دوران ٹک ٹاکر رجب بٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
مزید پڑھیے: رجب بٹ نے صرف ایک ماہ میں ٹک ٹاک لائیو سے کتنے کروڑ روپے کمالیے؟
حکم نامے کے مطابق وکیل نے ہڑتال کے باوجود عدالت میں پیش ہو کر ضابطۂ اخلاق اور ہڑتال کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کی جبکہ ان کے ہمراہ نجی گارڈز یا افراد کی موجودگی کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ دوران سماعت وکیل کی جانب سے وکلا برادری کے خلاف دیے گئے بیانات کو سنگین پیشہ ورانہ بدعنوانی قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں وکلا کے درمیان اختلافات اور کشیدگی پیدا ہوئی۔
پنجاب بار کونسل کے مطابق ایڈووکیٹ اشفاق کے طرز عمل سے وکلا برادری کی ساکھ، اتحاد اور اجتماعی وقار کو شدید نقصان پہنچا اور تنازع و بے چینی کی فضا پیدا ہوئی۔
ریکارڈ کے مطابق ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق 2010 میں پنجاب بار کونسل اور 2012 میں ہائیکورٹ کے وکیل کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ کونسل نے واضح کیا کہ ایک وکیل ہونے کے ناطے ان پر لازم ہے کہ وہ ہر وقت پیشے کے وقار اور اعلیٰ اقدار کو برقرار رکھیں۔
مزید پڑھیں: پہلی پیشی پر کراچی بار سے اجرک کاتحفہ وصول کرنے والے رجب بٹ تشدد کا شکار کیوں بنے؟
ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا لائسنس فوری طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ معاملہ مزید کارروائی اور قانون کے مطابق مستقل منسوخی کے لیے کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ذبیح اللہ نے کہا کہ پیشہ ورانہ بدعنوانی کے معاملات میں پنجاب بار کونسل کو لائسنس معطلی سے قبل نوٹس جاری کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر رجسٹرڈ وکیل بار کونسل کے ضابطۂ اخلاق سے باخبر سمجھا جاتا ہے اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ پیر کے روز یوٹیوبر رجب بٹ کو کراچی کی سیشن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ سماعت مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے سے متعلق تھی جس میں ان کی نمائندگی ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کر رہے تھے اور کارروائی کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
یہ بھی پڑھیے: یوٹیوبر رجب بٹ کے بعد اب ندیم نانی والے خطرے میں، وکیل نے کیا دھمکی دے دی؟
ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے مقدمے میں بھی وکیل کی حیثیت سے پیش ہو چکے ہیں۔














