نیویارک ٹائمز کے مطابق وینزویلا کی سیکیورٹی فورسز نے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے صدر نکولس مادورو کے خلاف فوجی کارروائیوں اور معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ستمبر سے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 5 امریکی شہریوں کو وینزویلا میں حراست میں لیا گیا ہے، تاہم ہر کیس کی نوعیت مختلف ہے اور ممکن ہے کہ بعض افراد منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہوں۔
امریکی حکام تاحال اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ گرفتار امریکی شہری وینزویلا میں کیا سرگرمیاں انجام دے رہے تھے اور انہیں کن حالات میں حراست میں لیا گیا۔
Venezuelan security forces have detained at least five Americans in recent months as the US has built a pressure campaign against Venezuelan President Nicolás Maduro. https://t.co/EjkyWYPmV7
— Island News (@KITV4) January 2, 2026
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا خیال ہے کہ مادورو حکومت ان امریکی شہریوں کو امریکا کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکا نے مادورو حکومت کے خلاف دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس میں منشیات بردار کشتیوں پر حملے، وینزویلا کی بندرگاہ پر سی آئی اے کا ڈرون حملہ اور تیل کی ترسیل پر پابندیاں شامل ہیں۔
یہ حکمتِ عملی روس سے مماثلت رکھتی ہے، جو وینزویلا کا دیرینہ اتحادی ہے اور ماضی میں امریکا کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے دوران متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی وینزویلا میں مبینہ منشیات بندرگاہ پر امریکی حملے کی تصدیق
نیویارک ٹائمز نے سب سے پہلے حال ہی میں گرفتار کیے گئے امریکی شہریوں کی خبر دی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے تبصرے کی متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام یہ کہنے سے گریزاں ہیں کہ امریکا وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے براہِ راست کوشاں ہے، تاہم وہ مادورو کو غیر قانونی صدر اور منشیات فروش قرار دیتے رہے ہیں۔

انتظامیہ نے تیل بردار پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی اور دیگر مالی اقدامات کے ذریعے دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔
دسمبر میں امریکی محکمہ خارجہ نے مادورو کے اہلِ خانہ کے خلاف پابندیوں کے 2 پیکجز کا اعلان کیا، جن میں مادورو کے 3 بھانجوں، سالی اور دیگر رشتہ داروں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی ماہ امریکا نے وینزویلا میں زمینی ہدف پر پہلا حملہ کیا، جس میں سی آئی اے کے ڈرون کے ذریعے ایک بندرگاہی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں مسلح مداخلت انسانی المیہ ہوگی، برازیل کے صدر کا امریکا کو انتباہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دسمبر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ وینزویلا حکومت کے ساتھ موجودہ صورتحال امریکا کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
جمعرات کو وینزویلا کی بندرگاہ پر حملے سے متعلق سوال پر صدر مادورو نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر آئندہ دنوں میں بات ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک محفوظ ہے۔
سرکاری ٹی وی چینل وی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مادورو کا کہنا تھا کہ قومی دفاعی نظام، جس میں فوج، عوام اور پولیس شامل ہیں، نے ملک کی سلامتی، امن اور علاقائی خودمختاری کو یقینی بنایا ہے اور عوام پُرامن اور محفوظ ہیں۔














