امریکا وینزویلا تعلقات میں مزید تناؤ، امریکی شہری زیرِ حراست

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک ٹائمز کے مطابق وینزویلا کی سیکیورٹی فورسز نے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے صدر نکولس مادورو کے خلاف فوجی کارروائیوں اور معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

یہ پیش رفت ستمبر سے کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وینزویلا میں چین اور روس کی دلچسپی کیا ہے، امریکا کیوں پریشان ہے؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 5 امریکی شہریوں کو وینزویلا میں حراست میں لیا گیا ہے، تاہم ہر کیس کی نوعیت مختلف ہے اور ممکن ہے کہ بعض افراد منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہوں۔

امریکی حکام تاحال اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ گرفتار امریکی شہری وینزویلا میں کیا سرگرمیاں انجام دے رہے تھے اور انہیں کن حالات میں حراست میں لیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا خیال ہے کہ مادورو حکومت ان امریکی شہریوں کو امریکا کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔

حالیہ مہینوں میں امریکا نے مادورو حکومت کے خلاف دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس میں منشیات بردار کشتیوں پر حملے، وینزویلا کی بندرگاہ پر سی آئی اے کا ڈرون حملہ اور تیل کی ترسیل پر پابندیاں شامل ہیں۔

یہ حکمتِ عملی روس سے مماثلت رکھتی ہے، جو وینزویلا کا دیرینہ اتحادی ہے اور ماضی میں امریکا کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے دوران متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے چکا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی وینزویلا میں مبینہ منشیات بندرگاہ پر امریکی حملے کی تصدیق

نیویارک ٹائمز نے سب سے پہلے حال ہی میں گرفتار کیے گئے امریکی شہریوں کی خبر دی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے تبصرے کی متعدد درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے حکام یہ کہنے سے گریزاں ہیں کہ امریکا وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے لیے براہِ راست کوشاں ہے، تاہم وہ مادورو کو غیر قانونی صدر اور منشیات فروش قرار دیتے رہے ہیں۔

انتظامیہ نے تیل بردار پابندی زدہ جہازوں کی ناکہ بندی اور دیگر مالی اقدامات کے ذریعے دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔

دسمبر میں امریکی محکمہ خارجہ نے مادورو کے اہلِ خانہ کے خلاف پابندیوں کے 2 پیکجز کا اعلان کیا، جن میں مادورو کے 3 بھانجوں، سالی اور دیگر رشتہ داروں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی ماہ امریکا نے وینزویلا میں زمینی ہدف پر پہلا حملہ کیا، جس میں سی آئی اے کے ڈرون کے ذریعے ایک بندرگاہی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: وینزویلا میں مسلح مداخلت انسانی المیہ ہوگی، برازیل کے صدر کا امریکا کو انتباہ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دسمبر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ موجودہ وینزویلا حکومت کے ساتھ موجودہ صورتحال امریکا کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

جمعرات کو وینزویلا کی بندرگاہ پر حملے سے متعلق سوال پر صدر مادورو نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر آئندہ دنوں میں بات ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک محفوظ ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل وی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مادورو کا کہنا تھا کہ قومی دفاعی نظام، جس میں فوج، عوام اور پولیس شامل ہیں، نے ملک کی سلامتی، امن اور علاقائی خودمختاری کو یقینی بنایا ہے اور عوام پُرامن اور محفوظ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

2025: 7,667 افراد ہجرت کے خطرناک راستوں پر چلتے ہوئے موت کے گھاٹ اتر گئے، اقوام متحدہ

مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، فیلڈ مارشل اور سروسز چیفس

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟