انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان عادل راجہ، حیدر مہندی، وجاہت سعید، صابر شاکر، اور معید پیرزادہ کو 2، 2 بار عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے دیگر دفعات کے تحت انہیں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزا اور 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں:عادل راجہ نے بریگیڈیئر راشد نصیر کے خلاف زہر اگلنے، بے بنیاد الزامات لگانے کا اعتراف کرلیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق پراسیکوشن کی جانب سے مقدمے میں 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا، اور ٹرائل میں ملزمان کی غیر موجودگی میں کارروائی مکمل کی گئی۔ صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو تھانہ آبپارہ کے مقدمے میں جبکہ شاہین صبہائی، حیدر مہندی اور وجاہت سعید کو تھانہ رمنا کے مقدمے میں سزا دی گئی۔ عدالت نے وکیل گلفام اشرف گورائیہ کو ملزمان کے قانونی نمائندے کے طور پر مقرر کیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ مقدمہ 9 مئی 2025 کو ریاستی اداروں کے خلاف کی گئی ڈیجیٹل دہشتگردی سے متعلق تھا، جس میں ملزمان نے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک کی سلامتی اور عوامی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:شاہین صہبائی، صابر شاکر اور عادل راجہ سمیت دیگرکے شناختی کارڈ، پاسپورٹ بلاک کرنے کا عدالتی حکم
انسداد دہشتگردی قوانین کے مطابق، ملزمان کی غیر موجودگی میں بھی عدالت میں ٹرائل کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت یہ فیصلہ سنایا گیا۔












