عادل راجہ نے بریگیڈیئر راشد نصیر کے خلاف زہر اگلنے، بے بنیاد الزامات لگانے کا اعتراف کرلیا

جمعرات 11 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی یوٹیوبر اور سابق فوجی افسر میجر (ریٹائرڈ) عادل راجہ نے لندن ہائیکورٹ کی ہدایت پر تسلیم کرلیا کہ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) رشید نصیر کے خلاف ان کی جانب سے عائد کردہ تمام الزاماات جھوٹے، بے بنیاد اور توہین آمیز تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے برطانیہ سے شہزاد اکبر اورعادل راجا کی حوالگی کا مطالبہ کردیا

لندن ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ عادل راجہ کے پاس نصیر کے خلاف لگائے گئے الزامات کا کوئی دفاع موجود نہیں ہے۔

عدالت نے انہیں 2 بار وارننگ بھی دی کہ اگر وہ عدالت کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے تو یہ  توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا جس کے نتیجے میں جرمانہ، جیل یا اثاثوں کی ضبطی ممکن ہے۔

عدالتی حکم اور معافی

ڈپٹی ہائیکورٹ جج رچرڈ اسپیئر مین کے سی کے احکامات کے مطابق عادل راجہ نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے کہ ایکس، فیس بک، یوٹیوب اور اپنی ویب سائٹ پر عدالت کے فیصلے کا خلاصہ شائع کیا۔

مزید پڑھیے: بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے بڑا مقدمہ جیت لیا، عادل راجا کو 50 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادائیگی کا حکم

اس خلاصے میں عادل راجہ نے تسلیم کیا کہ 9 اکتوبر 2025 کو ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ انہیں بریگیڈیئر نصیر کو 50,000 پاؤنڈ (تقریباً 2 کروڑ روپے) بطور ہرجانہ ادا کرنے ہوں گے۔

عدالت نے انہیں قانونی اخراجات کے طور پر مزید 260,000 پاؤنڈ کی ادائیگی کا بھی حکم دیا جو 22 دسمبر 2025 تک ادا کی جائیں گی۔

عدالت نے حکم دیا کہ یہ معافی نامہ اور فیصلے کا خلاصہ 28 دن تک عوامی طور پر ان کے تمام پلیٹ فارمز پر موجود رہنا چاہیے۔

جھوٹے الزامات کی تفصیل

عادل راجہ نے خلاصے میں اعتراف کیا کہ 14 جون سے 29 جون 2022 کے درمیان انہوں نے بریگیڈیئر نصیر کے خلاف متعدد بدنام کرنے والے الزامات لگائے جن میں بدعنوانی، انتخابات میں دھاندلی، عدالتی مداخلت اور سیاسی نتائج پر اثراندازی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: لندن ہائیکورٹ: آئی ایس آئی پر مقدمہ نہیں، معاملہ صرف عادل راجا اور بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے درمیان ہے

عدالت نے ان الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور عادل راجہ کے کسی بھی دفاع کو مسترد کر دیا۔

مزید پابندیاں

جج اسپیئرمین نے عادل راجہ کو ہدایت کی کہ وہ بریگیڈیئر نصیر، ان کے ایجنٹس یا معاونین کے خلاف مزید کوئی بھی توہین آمیز بیان نہ دیں۔

یہ قانونی معاملہ 11 اگست 2022 سے جاری ہے جب بریگیڈیئر نصیر نے لندن ہائیکورٹ میں دعویٰ دائر کیا کہ عادل راجہ نے سوشل میڈیا پر جان بوجھ کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیے: ہتک عزت کیس: برطانوی عدالت نے عادل راجا پر مزید جرمانہ عائد کردیا

عدالت نے واضح کیا کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والے الزامات بھی قانونِ توہین سے مستثنیٰ نہیں ہیں جب تک وہ حقائق پر مبنی نہ ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم