چین نے پیدائش کی کم ہوتی شرح کو بڑھانے کی کوششوں کے تحت مانع حمل ادویات اور آلات پر گزشتہ 3 دہائیوں سے حاصل ٹیکس استثنیٰ یکم جنوری سے ختم کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین: بچہ پیدا کریں اور حکومت سے 1،500 ڈالر لے لیں، بیک ڈیٹ کی بھی سہولت
رائٹرز کے مطابق نئے فیصلے کے تحت کنڈوم اور مانع حمل گولیوں پر اب 13 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) عائد ہوگا جو چین میں زیادہ تر صارف اشیا پر لاگو معیاری شرح ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیجنگ دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں گرتی ہوئی پیدائش کی شرح پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔
چین کی آبادی سنہ 2024 میں مسلسل تیسرے سال کم ہوئی جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
گزشتہ برس چین نے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دی جانے والی سبسڈی کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا اور سالانہ چائلڈ کیئر سبسڈی متعارف کروائی۔
سنہ 2024 کے دوران حکومت نے دیگر ’تولیدی دوست‘ اقدامات بھی کیے جن میں کالجوں اور جامعات کو ہدایت دینا شامل تھا کہ وہ شادی، محبت، تولید اور خاندان کے تصور کو مثبت انداز میں اجاگر کرنے کے لیے محبت کی تعلیم فراہم کریں۔
مزید پڑھیے: چین: تمام تر حکومتی سہولیات کے باوجود چینی مزید بچے پیدا کرنے کو تیار نہیں، کیوں؟
چینی قیادت نے گزشتہ ماہ سالانہ سینٹرل اکنامک ورک کانفرنس میں ایک بار پھر پیدائش کی شرح کو مستحکم کرنے کے لیے مثبت شادی اور بچوں کی پیدائش کے رویوں کے فروغ کا عزم ظاہر کیا۔
شرح پیدائش میں کمی کی وجہ
چین میں پیدائش کی شرح میں کمی کی ایک بڑی وجہ سنہ 1980 سے سنہ 2015 تک نافذ رہنے والی ’ایک بچہ‘ پالیسی اور تیز رفتار شہری آبادی میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: چینی صدر کی خواتین کو شادی اور بچے پیدا کرنے کے نئے کلچر کو فروغ دینے کی اپیل
اس کے علاوہ بچوں کی پرورش اور تعلیم کے بڑھتے اخراجات، روزگار میں عدم استحکام اور سست ہوتی معیشت نے بھی بہت سے نوجوان چینی شہریوں کو شادی اور خاندان شروع کرنے سے دور رکھا ہے۔













