معروف بھارتی نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر جاوید اختر نے اپنے بارے میں وائرل ہونے والی ایک جعلی ویڈیو پر قانونی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے، جس میں ان کے ذاتی عقائد میں تبدیلی کا جھوٹا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
جمعرات یکم جنوری کو جاوید اختر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹوپی پہنے ایک ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی جعلی ویڈیو ہے، جسے غلط طور پر ان کے ایمان میں تبدیلی کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی شاعر جاوید اختر (ڈمی) کی وی ٹو میں انتہائی دلچسپ گفتگو
جاوید اختر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک جعلی ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں کمپیوٹر سے تیار کی گئی ان کی تصویر کو ٹوپی پہنے دکھایا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ خدا کی طرف مائل ہو گئے ہیں، جو خلاف حقیقت بات ہے۔
80 سالہ ادیب نے مزید بتایا کہ وہ اس جعلی ویڈیو بنانے والے کے خلاف سائبر پولیس سے رجوع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جان بوجھ کر یہ ویڈیو آگے پھیلانے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ جھوٹی معلومات پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 61 سال پہلے ممبئی آکر بے گھر اور بھوکا رہا، جاوید اختر کا اپنے کیرئر کے بارے میں جذباتی پیغام
5 بار نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والے جاوید اختر نے اس قسم کے مواد سے اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ یہ تنازع جاوید اختر اور اسلامی اسکالر مفتی شمیل ندوی کے درمیان حالیہ عوامی مناظرے ’کیا خدا موجود ہے؟‘ کے بعد سامنے آیا، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا تھا۔













