بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی کے مرکزی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اے ایچ ایم حمید الرحمان آزاد کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ کاکس بازار کے حلقہ این اے–2 (مہیش کھالی–کوتوبدیا) کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا۔
ضلعی ریٹرننگ افسر اور ڈپٹی کمشنر محمد عبد المنان نے جمعہ کی شام اعلان کیا کہ حمید الرحمان آزاد نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنے خلاف زیرِسماعت توہینِ عدالت کے مقدمے کو ظاہر نہیں کیا، جس کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیا گیا۔ تاہم انتخابی قوانین کے مطابق وہ مقررہ مدت کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار
ریٹرننگ افسر کے مطابق کاکس بازار کے 2 حلقوں میں مجموعی طور پر 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں تضادات پائے گئے، جس کے باعث انہیں مسترد کیا گیا۔ تمام اپیلوں کی سماعت الیکشن کمیشن کرے گا۔
کاکس بازار–2 میں ابتدائی طور پر سات امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے تھے، تاہم جماعتِ اسلامی کے حمید الرحمان آزاد اور آزاد امیدوار غلام مولا کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد اب پانچ امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں، جن میں بی این پی، اسلامی اندولن، خلافت مجلس، گونو اودھیکار پریشد اور جاتیہ پارٹی کے امیدوار شامل ہیں۔
دوسری جانب کاکس بازار–1 (چاکریا–پیکوا) کے حلقے میں بھی اسلامی اندولن کے امیدوار سرور عالم کتو بی اور آزاد امیدوار سیف الاسلام کے کاغذات نامزدگی غلط معلومات کی بنیاد پر مسترد کر دیے گئے ہیں۔ اس حلقے میں اب تین امیدوار باقی ہیں، جن میں بی این پی کے سینئر رہنما صلاح الدین احمد اور جماعتِ اسلامی کے عبداللہ الفاروق شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی قومی ائیرلائن کو براہ راست کراچی پروازوں کی اجازت
نظرثانی شدہ انتخابی شیڈول کے مطابق کاغذات کی منظوری یا مستردی کے خلاف اپیلیں 5 سے 9 جنوری تک دائر کی جا سکیں گی، فیصلے 18 جنوری تک ہوں گے، امیدوار 20 جنوری تک دستبردار ہو سکیں گے جبکہ انتخابی نشانات 21 جنوری کو الاٹ کیے جائیں گے۔ بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور ریفرنڈم 12 فروری کو ہوں گے۔














