بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پورور نے خبردار کیا ہے کہ ملک اگلے پارلیمانی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے اور ان کی پارٹی کسی بھی ‘یک طرفہ یا مصنوعی انتخابات’ کو قبول نہیں کرے گی۔
جمعہ کی شام کھلنا کے ڈوموریا میں ہندو کمیونٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے پورور نے کہا کہ ہم کسی مشکوک انتخاب کو دوبارہ قبول نہیں کریں گے۔ جو لوگ ایسا منصوبہ بنا رہے ہیں، انہیں جان لینا چاہیے کہ عوام نے تبدیلی کے لیے پہلے ہی بھاری قیمت ادا کی ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ اسے دوبارہ بچانے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عام انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی رہنما کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد
پورور نے جماعت کے انتخابی مہم کو ‘فاشزم اور ظلم کے خلاف جدوجہد’ کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ پارٹی اس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گی جب تک آمریت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت ایک ایسا جامع بنگلہ دیش تعمیر کرنا چاہتی ہے جہاں ہر مذہب کے شہری عزت کے ساتھ رہ سکیں، اور بدعنوانی و زمین ہڑپ کرنے کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے ‘ایماندار قیادت اور قانون کی حکمرانی’ کے علاوہ کوئی متبادل نہیں۔ انہوں نے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ جماعت کے انتخابی نشان، ترازو، کو ووٹ دیں، جو انصاف اور اچھے حکمرانی کے لیے ووٹ کے مترادف ہے۔
ہندو کمیونٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے پورور نے دعویٰ کیا کہ جماعت نے تاریخی طور پر اقلیتی گروہوں کے بحران کے وقت ساتھ دیا ہے اور وعدہ کیا کہ دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں ڈوموریا کے سیلاب زدہ علاقوں میں ترقیاتی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت
ریلی میں مقامی جماعتی رہنما اور کمیونٹی نمائندے بھی موجود تھے۔ پورور نے دن کے آغاز میں اسی اپازیلا میں ایک اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر جماعت کو حکومت کرنے کا موقع ملا، تو وہ فلاحی ریاستی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش اگلے ماہ قومی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتیں انتخابی ماحول پر تنقید کر رہی ہیں اور وسیع سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔














