متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان عام انتخابات میں کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، یہ اس سے قبل بھی ہوا ہے لیکن اس بار مختلف یہ ہے کہ بظاہر تمام دھڑوں کو ملانے والی ایم کیو ایم پاکستان کے اندر اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے آخری 2 جلسے اس جماعت کی کراچی میں مقبولیت کا احوال بتاتے ہیں، جبکہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے آخری پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی سینیئر قیادت کا نا ہونا بھی اشارہ کر رہا ہے کہ اندرون خانہ کوئی کچھڑی پک رہی ہے۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم نے بگڑتی صورت حال پر ’کراچی بچاؤ مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کردیا
کراچی میں آئے روز حادثات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن پہلی بار ایسے مناظر دیکھے گئے ہیں کہ ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما فاروق ستار کو نہ صرف گاڑی سے اترنے نہیں دیا گیا بلکہ عوام نے غصے سے انہیں برا بھلا بھی کہا، شاید یہی وجوہات ہیں کہ ایم کیو ایم کراچی کے عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی میں مضبوط مقامی حکومت کے قیام، کراچی اسٹریٹیجک ڈیولپمنٹ پلان 2020 پر عملدرآمد، ای چالان سسٹم کے نفاذ، شہر کی مخدوش بلدیاتی صورتحال، ٹریفک کے بے ہنگم نظام، ڈمپرز، لوڈرز اور ہیوی وہیکل کے نیچے شہریوں کے کچلے جانے جیسے مسائل کے حل کے لیے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ اسٹریٹ کرائمز بشمول گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے چھن جانے، سالانہ 20 ہزار سے زیادہ موبائل فون چھینے جانے، چوری اور رہزنی کی 50 ہزار سے زیادہ وارداتیں رپورٹ ہونے، جعلی ڈومیسائل کے اجرا اور کراچی کے نوجوانوں کو محدود کیے جانے والے جیسے مسائل بھی اس مہم کے دوران اٹھانے کی بات کی گئی ہے۔
ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کی باتیں درست نہیں، حسان صابر
کراچی بچاؤ مہم کے حوالے سے ایم کیو ایم کے ممبر قومی اسمبلی حسان صابر نے کہاکہ کراچی بچاؤ مہم کا مقصد شہر قائد کے لوگوں کو بچانا ہے، کراچی کے مسائل کو حل کرنا ہے، روڈ انفراسٹرکچر لے کر آنا ہے اور ضرور آئے گا۔
ایم کیو ایم کے حال ہی میں ہونے والے دو ناکام جلسوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس کا انہیں علم نہیں کیوں کہ وہ کراچی میں موجود نہیں تھے لیکن ایم کیو ایم میں دھڑے بندی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔
’مصطفیٰ کمال کی حال ہی میں ہونے والی پریس کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ ایم کیو ایم کے پاس کراچی بچاؤ مہم کے لیے تعداد بھی ہے اور پلان بھی موجود ہے۔‘
’شاید ایم کیو ایم لندن کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے‘
سینیئر صحافی و تجزیہ کار ارمان صابر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اندرونی اختلافات کے باعث ڈلیور نہیں کر پا رہی، اور شاید ایم کیو ایم لندن کے لیے راہ ہموار ہو رہی ہے۔
ارمان صابر کے مطابق عوام ایم کیو ایم پاکستان سے متنفر دکھائی دے رہے ہیں، جس کی ایک جھلک نیپا چورنگی میں فاروق ستار کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ فاروق ستار جو کم عمر میئر منتخب ہوئے، وہ فاروق ستار جن کے اشاروں پر یہ شہر حرکت میں آتا تھا، ان کے ساتھ عوام نے انتہائی سخت لہجہ اپنایا اور گاڑی سے اترنے تک نہیں دیا جو ایک پیغام ہے۔
ارمان صابر کے مطابق یہ ایم کیو ایم کی قیادت کو سوچنا ہے کہ وہ کس سمت پر گامزن ہیں، لوگوں کی محبتیں سمیٹنے کے بجائے یہ لوگ نفرتیں سمیٹ رہے ہیں۔
کراچی بچاؤ مہم کا مقصد کیا ہے، یہ کس سے شہر کو بچانا چاہتے ہیں؟
’کراچی بچاؤ مہم کا مقصد کیا ہے، یہ کس سے کراچی کو بچانا چاہتے ہیں، جبکہ یہ خود کو تو بچا نہیں پارہے ہیں، پہلے کراچی والوں کے دلوں میں جگہ تو بنائیں پھر مہم چلائیں، ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں کراچی کی نمائندہ جماعت ہے اور خالد مقبول صدیقی کے مطابق انہیں وفاق سے فنڈز بھی ملے ہیں تو وہ فنڈز کہاں گئے؟‘
’ایم کیو ایم کے درمیان اختلافات سب کے سامنے ہیں‘
سینیئر خاتون صحافی کرن خان نے کہاکہ کراچی بچاؤ مہم کا اصل مقصد آئین میں ترامیم کے وقت ایم کیو ایم کی سفارشات کو نظر انداز کرنا تھا، یہ بنیادی طور پر ایک دستخطی مہم تھی۔
مزید پڑھیں: کراچی کے مسائل کا حل کیسے ممکن ہے؟ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے نسخہ بتادیا
انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات سب کے سامنے ہیں بعض اوقات تو ہم نے یہ بھی دیکھا کہ یہ ایک دوسرے کی پریس کانفرس بھی اون نہیں کرتے۔
’مصطفیٰ کمال کی حال ہی میں ہونے والی پریس کانفرنس جس کے بارے میں خالد مقبول صدیقی بھی بے خبر تھے کہ یہ کس معاملے پر ہو رہی ہے۔‘













