جنریشن زی سوال اٹھاتی ہے اور بومرز ناراض ہو جاتے ہیں۔ معاف کیجیے یہ بنیادی مقدمہ ہی درست نہیں، سچ تو یہ ہے کہ جنریشن زی سوال اٹھاتی ہی نہیں ہے اور اسی لیے نفرت، جذباتیت اورکلٹ کا آسان اور سستا ایندھن بن جاتی ہے۔
حالیہ بحث میں جنریشن زی سے مراد وہ نوجوان لیے جا رہے ہیں جو تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور بومر وہ بڑی عمر کے لوگ ہیں جو دوسری جماعتوں کا حصہ ہیں۔ یہ جنرلائزیشن ہی خلاف واقعہ ہے کیونکہ نہ تو ساری جنریشن زی ایک صف میں ہے اور نہ ہی تمام بومر دوسری صف میں کھڑے ہیں ہیں۔ یہ خلط مبحث ہے اور علم کی دنیا میں اس تقسیم کا کوئی اعتباار ہی نہیں۔
تاہم اگر جنریشن زی اور بومرز کی اس جزوی تعریف کو وقتی طور پر قبول بھی کر لیا جائے تو معاملہ بالکل دوسرا ہے۔ معاملہ یہ نہیں کہ جنریشن زی سوال اٹھاتی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سوال اٹھانے کی صلاحیت ہی کھو چکی ہے۔
جہاں سوال اٹھتے ہوں وہاں کلٹ پیدا نہیں ہوتے۔ کلٹ پیدا ہی تب ہوتے ہیں جب سوال کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ پھر کلٹ ہی دلیل ہوتا ہے اور کلٹ ہی معیار۔ سوال اٹھانے والے کو گالیاں دی جاتی ہیں اور چیزوں کو کسی قاعدے اور اصول پر نہیں پرکھا جاتا، انہیں کلٹ کے مفاد پر جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔
جنریشن زی میں سے کوئی سوال نہیں اٹھاتا کہ آپ نے تو پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا تھا تو بعد میں آپ نے پارٹی کی صوبائی قیادت انہیں کیسے سونپ دی؟ کیا آپ کو یہی کوالیفیکیشن درکار تھی؟ آپ تب غلط تھے یا اب غلط ہیں؟ آپ نے رائے بدلی ہے یا آپ کا مفاد بدلا ہے؟
جنریشن زی یہ سوال بھی نہیں اٹھاتی کہ ماضی میں آرمی چیف کو قوم کا باپ قرار دینے کے پیچھے کون سی حکمت تھی۔ وہ یہ سوال بھی نہیں اٹھاتی کہ آپ کی جدوجہد آئین کی بالادستی کے لیے ہے یا پارٹی کے خانہ ولدیت میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دوبارہ لکھوانے کے لیے ہے۔
جنریشن زی نے کبھی یہ بھی نہیں پوچھا کہ تحریک انصاف دوسری جماعتوں سے اخلاقی طور پر کتنی بہتر اور کتنی مختلف ہے۔
جنریشن زی کی کمر پر کبھی عثمان بزدار جیسا وزیراعلیٰ بٹھا دیا گیا تو کبھی علی امین گنڈا پور جیسا، جنریشن زی نے ایک بار بھی پلٹ کر یہ سوال نہیں ہوچھا کہ اس بوجھ کی افادیت کیا ہے۔ کون سا میرٹ ہے جو آپ پر اترا ہے۔
جنریشن زی نے کبھی تعرض نہیں کیاکہ دنیا جہاں کے لوٹے جو حق مہر میں تحریک انصاف کو دیے گئے، وہ کس کام آئیں گے، کیا ان کی ٹونٹیوں سے انقلاب بہے گا۔
موروثی سیاست کے خلاف عشروں لگانے کے بعد موروثی سیاست سے پارٹی کی کمر دہری کردی گئی لیکن جنریشن زی ایک بار بھی مضطرب نہیں ہوئی کہ ایسا کیوں۔
اس نے کبھی یہ نکتہ نہیں اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں اتنے سال کے اقتدار کے بعد پارٹی کی کارکردگی کیا ہے، ہم کب تک دوسروں کی خامیوں پر معتبر بنے پھریں گے اور بطور حکمران ہماری جماعت کا اپنا نامہ اعمال کیا ہے۔
جنریشن زی کبھی کسی یوٹرن سے بد مزہ نہیں ہوئی۔ وہ صرف سنتی ہے اور اطاعت کرتی ہے۔ ہر حال میں اطاعت کرتی ہے، ہر غلطی کو ماسٹر اسٹروک قرار دیتی ہے، جیسے کوئی سحر زدہ معمول ہو یا کوئی روبوٹ۔
اس نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ باقاعدہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجنا اگر غلط ہے تو ایک وزیراعظم کو ایک مشکوک فیصلے کے ذریعے تاحیات نا اہل قرار دے کر گھر بھیجنا کیسے درست تھا۔ مذمت کرنی ہے تو دونوں کی کیوں نہ کی جائے۔ تب تو منہ میں لڈو یوں ٹھونس لیے گئے تھے کہ آبلے پھٹنے کو آ گئے تھے۔ تو بات اصولی ہے یا بات وصولی کی ہے۔
انہوں نے کبھی استفسار نہیں کیاکہ اگر تحریک انصاف کی حکومت امریکا نے ختم کروائی تو پھر امیدیں اسی امریکا کے صدر ٹرمپ سے کیوں باندھی گئیں کہ وہ ایک فون کال کرے گا اور خان صاحب رہا ہو جائیں گے۔ اس نے کبھی پوچھا کہ ہماری پارٹی کے اوورسیز کا بڑا طنطنہ ہے تو اوورسیز کا ایک یونٹ امریکا میں امریکی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتا۔
اس جنریشن نے کبھی اپنی قیادت سے اس تضاد پر جواب طلب نہیں کیا کہ دوسروں کو عدالتیں سزا سنائیں تو وہ سرٹیفائیڈ چور ہوتے ہیں لیکن آپ کو سزا سنائی جائے تو آپ کو چور کیوں نہ کہا جائے۔
یہ جنریشن اس بات پر نفرت کا سونامی بنی پھرتی ہے کہ ان کی جماعت کے لوگ توڑ لیے گئے لیکن انہوں نے یہ سوال کبھی نہیں اٹھایا کہ جہانگیر ترین کے جہازوں میں بھر بھر کر جب رجال کار بنی گالہ لائے جاتے تھے تو یہ ساری مشق کیا اللہ کی رضا کے لیے ہوا کرتی تھی۔ تب یہ جنریشن اسکور بک پکڑے داد دیا کرتی تھی کہ واہ صاحب واہ، اتنی وکٹیں گر گئیں، لیکن آج جب اپنی وکٹیں گرنے لگی ہیں تو شور مچا ہے کہ دہائی ہے، صاحب دہائی ہے۔
اس جنریشن نے کبھی اپنی قیادت سے یہ نہیں پوچھا کہ تم نے کون سی ڈرائی کلین مشین دریافت کی ہے کہ لوگ دوسری جماعتوں میں ہوتے ہیں تو کرپٹ، بے ایمان اور چور کہلاتے ہیں اور انہیں روایتی سیاست دان ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن ق لیگ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے جو جو بلند بخت ہانک کر آپ کی جماعت میں لائے گئے وہ کھڑے کھڑے ہی قائد انقلاب بن گئے اور اپنے دور کے رستم اور سہراب ٹھہرے۔ یہ کون سی لانڈری ہے جہاں بندے کی راتوں رات کایا پلٹ ہو جاتی ہے؟
کوئی سوال اٹھائے تو کہا جاتا ہے یہ کام تو دوسری جماعتیں بھی کرتی ہیں۔ اس جواب پر جنریشن زی نے کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ قبلہ، عالی جاہ اگر آپ نے وہی سب کچھ کرنا تھا جو دوسرے کرتے آئے ہیں تو اس کے لیے 22 سال کی جدوجہد کی کیا ضرورت تھی۔
یہ والی جنریشن زی اختلاف رائے کے آداب سے ناآشنا ہے۔ اختلاف پر یہ گندی اور غلیظ گالیاں دیتی ہے۔ اس کو معلوم ہی نہیں کہ اس کی لگامیں کچھ خرانٹ قسم کے بومرز کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ بومرز ان کا استحصال کر رہے ہیں، تبدیلی کے بومرز نفرت کی ڈگڈگی بجا رہے ہیں اور ان کے حصے کی جنریشن زی ڈگڈگی پر اچھل کود کو عزیمت کی مسافت سمجھتی ہے۔
یہ شعور نہیں ہے۔ یہ بدترین فکری اور شعوری استحصال ہے۔ جنریشن زی اس استحصال کا شکار اس لیے ہوئی کہ وہ سوال نہیں اٹھاتی، اس کا مطالعہ محدود ہے۔ وہ کتابوں کی نہیں، سوشل میڈیا کے تھمب نیل کی قتیل ہے۔ وہ کسی بھی سنجیدہ موضوع پر مکالمے اور مطالعے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ وہ دو فقروں کے بعد ہانپ جاتی ہے اور چھلانگ لگا کر نتیجے پر پہنچ جاتی ہے اور نتیجہ بڑا سادہ ہے: ہمارا کپتان ایماندار ہے باقی سب چور اچکے اور بے ایمان ہیں۔ دوسروں کے خلاف بدتمیزی کی حدوں کو عبور کر جانا بھی اس کے نزدیک حریت فکر ہے، مگر جو کپتان سے اختلاف کرتا ہے وہ یقیناً بغض کا مارا ہوا انسان ہے اور بددیانت اور لفافہ ہے۔
نفرت اور تقسیم کے عنوانات پہلے کیا کم تھے کہ اب عمروں کے تفاوت کی بنیاد پر سماج میں ایک نیا زہر بھرا جا رہا ہے کہ جو عمر رسیدہ نسل ہے وہ دھرتی کا بوجھ ہے۔ یہ تاثر ایسا دیا جا رہا ہے جیسے معلوم انسانی تاریخ میں جوانی صرف اس جنریشن زی پر آئی ہے۔ ان سے پہلی نسل تو پنگھوڑے میں ہی عمر رسیدہ ہوگئی تھی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













