وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد عالمی برادری نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ممالک، عالمی اداروں اور حکمرانوں نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی امن کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے شدید مزمت کی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
چین و روس نے فوجی آپریشن کی کھلی مذمت کی
چین نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خودمختار ریاست کے خلاف جارحیت قرار دیا ہے، اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور ملکی خودمختاری کا احترام کرے۔
🛑 Abducted Venezuelan President Nicolas Maduro and First Lady Cilia Flores arrive in New York following the US strike on Venezuela
Cilia Flores alongside Nicolas Maduro is detained by US Drug Enforcement Administration (DEA) pic.twitter.com/Z3hgdLH93T
— Anadolu English (@anadoluagency) January 4, 2026
روس نے بھی امریکی حملے کو نا قابل قبول اور خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کے طور پر مسترد کیا، اور مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
لاطینی امریکا کے ممالک کا ردعمل
برازیل کے صدر لوئز اِناسیو لُولا دا سلوا نے کہا کہ امریکہ کی کارروائی نے ’غیر قابل قبول حد‘ پار کر دی ہے اور یہ لاتینی امریکہ اور کیریبین میں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
میکسیکو نے بھی امریکی فوجی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ نے میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا کو بھی خبردار کر دیا
کولمبیا کے صدر گسٹاؤ پیٹرو نے پوچھا ہے کہ ایسی کارروائی سے لاطینی امریکا کی خودمختاری متاثر ہو گی اور یہ ایک انسانی بحران پیدا کر سکتی ہے۔
کیوبا نے اس حملے کو ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی ردِ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔
چلی کی حکومت نے بھی فوجی کارروائی کی تشویش اور مزمت کا اظہار کیا اور امن اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔
عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کا ردعمل
فرانس نے کہا ہے کہ امریکی آپریشن بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور کوئی بھی پائیدار حل بیرون مداخلت سے نہیں آ سکتا۔
یورپی یونین نے بھی واقعات پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے۔
FALL OF A DICTATOR: Celebrations erupt worldwide after the U.S. captures Venezuelan President Nicolás Maduro. pic.twitter.com/fZZMmj4VeO
— Fox News (@FoxNews) January 3, 2026
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے کہا ہے کہ یہ کارروائی خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے اور اس کا تعلق علاقائی امن و استحکام سے ہے۔ ایران نے بھی امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بین الاقوامی تبصرے اور خدشات
عالمی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے مسائل کو حل نہیں کیا جا سکتا اور مذاکرات، ملٹی لیٹرلزم اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہی سیاسی بحرانوں کا حل ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدرِ وینزویلا کی گرفتاری: امریکا نے ماضی میں کن عالمی رہنماؤں کو حراست میں لیا؟
اسی تنازع پر امریکی داخلی اور خارجی سطح دونوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری نے زور دیا ہے کہ بحران کا حل امن، قانون اور خودمختاری کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔













