بھارتی کرکٹ لیگ آئی پی ایل سے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو نکالے جانے کے معاملے پر بنگلہ دیش میں شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے، جہاں حکومت نے نہ صرف اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے بلکہ ملک میں آئی پی ایل کی نشریات پر نظرثانی کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
“I have requested the adviser for Information and Broadcasting to ensure that the broadcast of the IPL in Bangladesh is also suspended. Under no circumstances will we tolerate any insult to Bangladeshi cricket,” Asif Nazrul said.#IPL2026 https://t.co/8ik8jR8pmy
— Circle of Cricket (@circleofcricket) January 4, 2026
بنگلہ دیش کی مشیر اطلاعات و نشریات سیدہ رضوانہ حسن نے کہا ہے کہ حکومت مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے ڈراپ کیے جانے کے بعد ممکنہ ردعمل کے قانونی جواز کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز سیکریٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر خاموش رہنا ممکن نہیں۔
سیدہ رضوانہ حسن کے مطابق کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنا، مبینہ طور پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ہدایات پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے، جس نے بنگلہ دیشی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیش بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معروف قانونی ماہر اور تعلیمی شخصیت عاصف نذرال نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں آئی پی ایل کی نشریات معطل کرنے پر غور کرے، کیونکہ ان کے بقول کھیل کو سیاست کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی کرکٹ بورڈ کا متعصبانہ فیصلہ، بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا
سیدہ رضوانہ حسن نے کہا کہ حکومت کسی بھی اقدام سے قبل تمام قانونی طریقۂ کار کا بغور جائزہ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے کھلاڑی کو جس کی شمولیت پہلے ہی طے ہو چکی ہو، بظاہر سیاسی بنیادوں پر ٹیم سے نکالنا قابلِ افسوس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیل اور ثقافتی روابط عموماً ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اس معاملے میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔
Bangladesh will ask the ICC to relocate their T20 World Cup matches from India to Sri Lanka, after KKR were instructed to release Mustafizur Rahman as a result of deteriorating political ties between Bangladesh and India
Full story: https://t.co/WYhF1tbnyN pic.twitter.com/0ELAc4uFCM
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) January 3, 2026
جب ان سے براہِ راست آئی پی ایل نشریات روکنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت ابھی قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور کسی حتمی فیصلے سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس موقع پر سیدہ رضوانہ حسن نے آئندہ عام انتخابات سے قبل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ انتخابی ماحول مجموعی طور پر قابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مستفیض الرحمان کو دھمکیاں، بنگلہ دیش کا ٹی20 ورلڈکپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرانے پر غور
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو اس سیزن میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے کھیلنے کی توقع تھی، تاہم اچانک فیصلے نے بنگلہ دیش میں کھیل، سیاست اور دوطرفہ حساس معاملات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔













