وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سروس ڈلیوری اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے۔ ان کی ہدایت پر سی ایم انسپکشن ٹیم فیلڈ میں متحرک ہو گئی ہے اور ٹیم کی جانب سے وزیراعلیٰ کو روزانہ رپورٹ پیش کی جا رہی ہے، انسپکشن ٹیم کے گوجرانوالہ ٹیچنگ اسپتال کے دورے کے دوران بدانتظامی پر ایم ایس اور پرنسپل کو معطل کردیا گیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں گورننس اور صفائی انتظامات کی نگرانی مزید سخت کردی
مانیٹرنگ کے لیے ڈیش بورڈ بھی فعال کردیا گیا ہے، جس کے ذریعے وزیراعلیٰ خود سرکاری اداروں کی لائیو مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سی ایم انسپکشن ٹیمیں اسپتالوں میں چیکنگ کر رہی ہیں تاکہ عوام کو سہولیات اور مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور کسی بھی کوتاہی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔ انسپکشن ٹیمیں ہیلتھ اور ایجوکیشن کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں کی مانیٹرنگ بھی کریں گی۔
اسی سلسلے میں سی ایم انسپکشن ٹیم گوجرانوالہ ٹیچنگ اسپتال پہنچ گئی۔ بدانتظامی کے پیش نظر نئے ایم ایس اور پرنسپل کو معطل کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی معاون خصوصی شعیب مرزا نے خصوصی ٹیم اسپتال روانہ کی تھی، جس نے مختلف شعبوں کا اچانک معائنہ کیا اور مریضوں اور تیمارداروں سے فیڈ بیک لیا۔
مریضوں اور تیمارداروں نے ادویات کی فراہمی میں بدانتظامی کی شکایات کیں، جس کے بعد فوری ایکشن لیتے ہوئے گوجرانوالہ ٹیچنگ اسپتال کے نئے ایم ایس اور پرنسپل کو ہٹا دیا گیا۔
مزید پڑھیں: گڈ گورننس ن لیگ کا ایجنڈا، جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آ چکی: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
عوامی شکایات پر متعدد ایم ایس اور پرنسپلز کی تبدیلی کے ساتھ سی ایم انسپکشن ٹیمیں اور معاون خصوصی شعیب مرزا اسپتالوں کے اچانک دورے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ عوامی سہولیات کی فراہمی میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔













