اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پیر کو ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ امریکا کی وینزویلا میں فوجی کارروائی پر غور کیا جا سکے، جس کے نتیجے میں صدر نیکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اقدام کو خطرناک مثال قرار دیا ہے۔
کولمبیا، جسے روس اور چین کی حمایت حاصل ہے، نے اس 15 رکنی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی۔ انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل تمام بین الاقوامی قوانین بشمول اقوام متحدہ کے چارٹر کا مکمل احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر گہری تشویش رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب
انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا کی صورتِ حال سے قطع نظر، یہ پیش رفت ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل امریکا اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے اکتوبر اور دسمبر میں پہلے ہی دو اجلاس کر چکی ہے۔
وینزویلا کے اقوام متحدہ کے سفیر سیموئیل مونکاڈا نے سلامتی کونسل کو خط لکھا اور اس کارروائی کو نوآبادیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری جمہوری حکومت کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ اس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے، جو کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔













