امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے فلوریڈا میں واقع اپنے نجی گھر میں تعطیلات گزار رہے تھے، کچھ گھنٹوں بعد ہی انہوں نے وینزویلا میں ایک غیر معمولی فوجی کارروائی کی قیادت کی، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتارکرکے امریکا لایا گیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، وینزویلا مشن سے محض ایک دن قبل صدر ٹرمپ فلوریڈا میں واقع اپنے نجی ریزورٹ مارالاگو میں مصروف تھے، جہاں ان کی سرگرمیوں میں عالمی سیاست کے اہم معاملات کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس کے لیے سنگِ مرمر اور اونکس کی خریداری بھی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیے: وینزویلا کے عوام کو آزادی دی، نئی حکومت آنے تک ملک ہم چلائیں گے، معزول صدر پر مقدمہ ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مختلف موضوعات پر بیانات جاری کیے، جن میں ایران کے مظاہرین کی حمایت، امریکی تیاریوں سے متعلق دعوے اور اپنی صحت سے متعلق پیغامات شامل تھے، تاہم ان پوسٹس میں وینزویلا کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
جمعے کی صبح صدر ٹرمپ نے لیک ورتھ بیچ میں ایک اطالوی اسٹون امپورٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وائٹ ہاؤس میں تعمیر ہونے والے 400 ملین ڈالر کے نئے بال روم کے لیے سنگِ مرمر کا انتخاب کیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق یہ خریداری صدر ٹرمپ اپنی ذاتی لاگت پر کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کی وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
مارالاگو میں قیام کے دوران صدر ٹرمپ کی مصروفیات میں غیر ملکی رہنماؤں سے ملاقاتیں، نئے سال کی بلیک ٹائی تقریب اور سماجی سرگرمیاں شامل رہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے حساس وقت میں ان سرگرمیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر اہم معاملات سے توجہ ہٹا لیتے ہیں، جبکہ حامیوں کے مطابق وہ بیک وقت کئی امور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چند گھنٹوں بعد ہی وینزویلا میں نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کا منصوبہ عملی شکل اختیار کر گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور کئی ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔














