وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار کرکے امریکا منتقل کیے جانے کے غیر معمولی اقدام کے بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے متعدد ممالک کو براہِ راست یا بالواسطہ دھمکیوں نے عالمی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔
3 جنوری کو ہونے والی اس کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ نے تاریخی منرو ڈاکٹرائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا براعظم امریکا میں کسی بھی قسم کی ’غیر مطلوبہ سرگرمی‘ برداشت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے قریبی حلقے ان کے اس جارحانہ مؤقف کو طنزیہ طور پر ’ڈونرو ڈاکٹرائن‘ قرار دے رہے ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کئی ممالک کے بارے میں سخت بیانات دیے، جن میں درج ذیل ممالک نمایاں ہیں:
مزید پڑھیں: امریکی کارروائی میں گرفتار وینزویلا کے صدر مادورو نیویارک جیل منتقل
کولمبیا
صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بیمار ذہن کا انسان قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ وہ منشیات تیار کرکے امریکا بھیجنے میں ملوث ہیں۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ کولمبیا زیادہ عرصے تک اس روش پر قائم نہیں رہ سکے گا، جس سے ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کیوبا
کیوبا کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے اسے ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا جلد اس ملک کے معاملے پر سنجیدہ گفتگو کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کیوبا کی حکومت کا حصہ ہوتے تو شدید تشویش میں مبتلا ہوتے۔
میکسیکو
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر میکسیکو میں منشیات کارٹلز کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام واضح کر چکی ہیں کہ وہ امریکی افواج کو اپنی سرزمین پر اجازت نہیں دیں گی۔
گرین لینڈ
ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی اور چینی آبدوزوں کی موجودگی خطرناک ہے۔ ڈنمارک، جو نیٹو کا رکن ہے، کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے اس بیان کو خودمختار علاقے کے خلاف دھمکی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کی صورتحال پر نظر، پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات جاری ہیں، دفتر خارجہ
ایران
ایران میں جاری احتجاج اور تشدد کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکومت نے ماضی کی طرح مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکا انتہائی سخت ردعمل دے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا جارحانہ طرزِعمل عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ کئی ممالک پہلے ہی ممکنہ امریکی مداخلت کے خدشے کے تحت سفارتی اور دفاعی تیاریوں میں مصروف ہیں۔














